| فکرِ مدینہ |
حضرت سیدنا ابو محمد مرتعش رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا،'' میں نے بہت سے حج کئے اوران میں سے اکثر سفر کسی قسم کا زادِ راہ لئے بغیر کئے ۔پھر مجھ پر آشکار ہوا کہ یہ سب تو میرے نفس کا دھوکہ تھا کیونکہ ایک مرتبہ میری ماں نے مجھے گھڑے میں پانی بھر کر لانے کا حکم دیا تو میرے نفس پر ان کا حکم گراں گزرا ، چنانچہ میں نے سمجھ لیا کہ سفرِ حج میں میرے نفس نے میری موافقت فقط اپنی لذت کے لئے کی اور مجھے دھوکے میں رکھا کیونکہ اگر میرا نفس فناء ہو چکا ہوتا تو آج ایک حقِ شرعی پورا کرنا اسے بے حد دشوار کیوں محسوس ہوتا ؟''(الرسالۃ القشیریۃ ،ص۱۳۵ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 35) بے کار سوال کر بیٹھنے پر ''فکرِ مدینہ''....
حضرت سیدنا حسان بن سنان تابعی رضی اللہ تعالی عنہ ایک بلند مکان کے پاس سے گزرے تو اس کے مالک سے دریافت کیا ،''یہ مکان بنائے تمہیں کتنا عرصہ گزرا ہے ؟'' یہ سوال کرنے کے بعد آپ دل میں سخت نادم ہوئے اور اپنے نفس سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے ،''اے مغرور نفس ! تو بے کار وبے مقصد سوالات میں قیمتی وقت کو ضائع کرتا ہے ۔'' پھر اس فضول سوال کے کفارے میں آپ نے ایک سال کے روزے رکھے ۔ (منہاج العابدین ، ص ۷۲) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(36 ) پڑوسی کی مٹی استعمال کر لینے پر''فکرِ مدینہ'' ....
حضرت سیدنا کہُمَس بن حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا،''مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا تو