| فکرِ مدینہ |
حضرت سیدنا لقمان رضی اللہ تعالی عنہ دیر تک تنہائی میں بیٹھے رہتے ۔جب ان کا مالک پاس سے گزرتا تو کہتا ،''اے لقمان ! تم ہمیشہ تنہا بیٹھتے ہو اگر لوگوں کے ساتھ بیٹھو تو اس میں دل زیادہ لگے گا ۔'' تو آپ جواب دیتے زیادہ تنہائی غوروفکر کے لئے مفید ہے اور زیادہ غوروتفکر جنت کے راستہ کی راہنمائی کرتا ہے ۔'' (احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص ۱۶۳ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 32) درخت پر الٹا لٹک کر''فکرِ مدینہ'' ....
حضرت سیدنا ذوالنون مصری رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک عبادت گزار نوجوان کو دیکھا کہ ایک درخت پر الٹا لٹک کرکچھ اس طرح اپنے نفس کا محاسبہ کررہا ہے کہ ،''جب تک تُو عبادتِ الٰہی میں میری معاونت نہیں کریگا میں تجھے یونہی اذیت دیتا رہوں گا یہاں تک کہ تیری موت واقع ہوجائے ۔''(تذکرۃ الاولیاء، ج۱ ، ص ۱۱۲ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 33) کم عمری کے گناہ پر''فکرِ مدینہ'' ....
ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابن عطاء رضی اللہ تعالی عنہ کو گریہ زاری کرتے دیکھ کر لوگوں نے اس کا سبب پوچھاتو ارشاد فرمایاکہ،''میں نے کم عمری میں ایک شخص کا کبوتر پکڑ لیا تھا جس کے معاوضے کے طور پر اس کے مالک کو اب تک ایک ہزار دینار دے چکاہوں لیکن پھر بھی ڈرتا ہوں کہ نامعلوم مجھے کیا سزا دی جائے گی ؟''(تذکرۃ الاولیاء ج۲، ص ۵۷ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )