حضرت سیدنا عتبہ غلام رضی اللہ تعالی عنہ اپنی پوری رات تین چیخوں میں گزار دیتے تھے ۔ جب وہ نمازِ عشاء سے فارغ ہوتے تو اپنا سر دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ کر چیخ مارتے اور فکر مدینہ میں مشغول ہوجاتے ، جب رات کا دو تہائی حصہ گزر جاتا تو پھر ایک چیخ مارتے اور پھر سے گھٹنوں میں سر دے کر فکرِ مدینہ میں مشغول ہوجاتے ، پھر جب سحری کا وقت ہوتا تو ایک چیخ مارتے ۔ حضرت سیدنا جعفر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات ایک بصری سے بیان کی تو اس نے کہا آپ اس چیخ کی طرف دھیان نہ دیں بلکہ اس بات پر غور کیجئے جو دوچیخوں کے درمیان ہے ۔(یعنی غوروفکر)''
(احیاء العلوم، کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ ، ج ۵، ص ۱۴۷ )
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(30 ) بستر پر لیٹنے سے قبل ''فکر ِ مدینہ''....
حضرت سیدنا عبدالعزیز بن ابی روّاد رضی اللہ تعالی عنہ رات کی تاریکی چھا جانے کے بعد اپنے بستر کے قریب تشریف لاتے ، اس پر اپنا ہاتھ پھیرتے اور فرماتے ،''بے شک تو بہت نرم اور عمدہ ہے لیکن اللہ عزوجل کی قسم ! جنت میں تجھ سے بھی زیادہ نرم وملائم بچھونے ہیں ۔''پھر ساری رات عبادت میں گزار دیتے ۔(المتجر الرابح ، ص ۱۸۵)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )