Brailvi Books

فکرِ مدینہ
59 - 166
میں چاہتا ہوں کہ تُو دوزخ کی آگ سے بچ جائے ۔۔۔۔۔۔،لہذا صبر سے کام لے ۔'' یہ کہہ کر آپ روپڑے اور کافی دیر تک روتے رہے ۔(حکایات الصالحین ،ص۲۸)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 27) راہ چلتے ''فکر ِ مدینہ'' ....
    حضرت ابو الشیخ رضی اللہ تعالی عنہ ایک مرتبہ کہیں جارہے تھے کہ اچانک بیٹھ گئے اور چادر منہ پر ڈال کر رونے لگے ۔ کسی نے پوچھا ،''آپ کیوں روتے ہیں ؟'' فرمایا،''میں نے اپنی زندگی کے ختم ہونے ،نیک اعمال کی کمی اور موت کے قریب آنے کے بارے میں غوروتفکر کیا تو رونا آگیا ۔'' (احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص ۱۶۳)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 28) جنت ودوزخ کا تصور باندھ کر'' فکر ِ مدینہ''....
     حضرت سیدنا ابراھیم تیمی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے یہ تصور باندھا کہ میں جنت میں ہوں ، وہاں کے پھل کھا رہاہوں ، اس کی نہروں سے مشروب پی رہا ہوں اور حوروں سے ملاقات کر رہا ہوں ۔ اس کے بعد میں نے یہ خیال جمایا کہ میں جہنم میں ہوں اور آگ کی زنجیروں میں جکڑا تھوہڑ(کانٹے دار درخت ) کھا رہا ہوں اور دوزخیوں کا پیپ پی رہا ہوں ۔ 

     پھر میں نے اپنے نفس سے پوچھا ،''بتاؤ!اب تم کیا چاہتے ہو؟'' میرے نفس نے جواب دیا ،''میں دنیا میں واپس جانا چاہتا ہوں تاکہ نیکیاں کر سکوں ۔'' میں نے کہا ،
Flag Counter