حضرت سیدنا مالک بن ضیغم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا رباح القیسی رضی اللہ تعالی عنہ نمازِ عصر کے بعد ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا ،''اپنے والد محترم کو باہر بھیجئے۔'' میں نے عرض کی ،''وہ تو سو رہے ہیں ۔'' تو آپ یہ کہتے ہوئے پلٹ گئے کہ ، ''یہ سونے کا کون سا وقت ہے ؟''میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا ۔ میں نے دیکھا کہ آپ اپنا محاسبہ کرتے ہوئے فرما رہے ہیں ،''ابوالفضول! تم نے یہ کیوں کہا کہ یہ سونے کا کون سا وقت ہے ؟ آخر تجھے یہ فضول بات کہنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اب تمہیں سزا بھگتنا ہوگی ، میں سال بھر تجھے تکیہ پر سر نہیں رکھنے دوں گا ۔'' میں نے دیکھا کہ یہ کہتے ہوئے آپ کی آنکھوں سے سیلاب ِ اشک رواں تھا ۔(کیمیائے سعادت ج۲،ص ۸۹۳)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )