Brailvi Books

فکرِ مدینہ
58 - 166
 ( 25) فضول سوال کربیٹھنے پر'' فکر ِ مدینہ'' ....
    حضرت سیدنا مالک بن ضیغم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا رباح القیسی رضی اللہ تعالی عنہ نمازِ عصر کے بعد ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا ،''اپنے والد محترم کو باہر بھیجئے۔'' میں نے عرض کی ،''وہ تو سو رہے ہیں ۔'' تو آپ یہ کہتے ہوئے پلٹ گئے کہ ، ''یہ سونے کا کون سا وقت ہے ؟''میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا ۔ میں نے دیکھا کہ آپ اپنا محاسبہ کرتے ہوئے فرما رہے ہیں ،''ابوالفضول! تم نے یہ کیوں کہا کہ یہ سونے کا کون سا وقت ہے ؟ آخر تجھے یہ فضول بات کہنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اب تمہیں سزا بھگتنا ہوگی ، میں سال بھر تجھے تکیہ پر سر نہیں رکھنے دوں گا ۔'' میں نے دیکھا کہ یہ کہتے ہوئے آپ کی آنکھوں سے سیلاب ِ اشک رواں تھا ۔(کیمیائے سعادت ج۲،ص ۸۹۳)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 26) گوشت کھانے کی خواہش پر'' فکر ِ مدینہ'' ....
    حضرت سیدنا مالک بن دینار رضی اللہ تعالی عنہ  مسلسل ریاضت ومجاہدات میں مشغول رہا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ آپ کے دل میں گوشت کھانے کی خواہش نے شدت پکڑ لی تو آپ قصاب کے پاس پہنچے اور اس سے گوشت خرید کر سیدھے پہاڑ کی طرف چلے گئے ۔ وہاں جاکر آپ نے وہ گوشت نکال کر سونگھا اور اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرمانے لگے ،''اے نفس !میں تجھ سے بڑی مشقت لیتا ہوں اور زندگی کے عیش وعشرت سے دور رکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔ ، میں نہ تو کسی دشمنی کی بناپر ایسا کرتاہوں اور نہ کسی مجبوری کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔ ،بلکہ تیری محبت مجھے ایسا کرنے پر اکساتی ہے کیونکہ میں تجھ سے بہت محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔،
Flag Counter