| فکرِ مدینہ |
''رابعہ! یہ بھی کوئی نیند ہے،اس کا کیا لطف؟ اسے چھوڑ دو اور قبر میں مزے سے لمبی مدت کے لئے سوتی رہنا،آج تو تجھے زیادہ نیند نہیں آئی لیکن آنے والی رات میں نیند خوب آئے گی ،ہمت کرو اور اپنے رب ل کو راضی کر لو۔''
اس طرح کرتے کرتے آپ نے پچاس سال گزار دئیے کہ آپ نہ تو کبھی بستر پر دراز ہوئیں اور نہ ہی کبھی تکیہ پر سر رکھا یہاں تک کہ آپ انتقال کر گئیں۔
(حکایات الصالحین،ص ۳۹)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )( 23) چراغ کی لَو پر ''فکر ِ مدینہ'' ....
حضرت سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ رات کے وقت چراغ ہاتھ میں اٹھا لیتے اور اس کی لو پر اپنا انگوٹھا رکھ کر اس طرح اپنا محاسبہ فرماتے کہ ،''اے نفس ! تونے فلاں وقت فلاں کام کیوں کیا ؟ اور فلاں چیز کیوں کھائی ؟''(کیمیائے سعادت ج۲،ص ۸۹۳) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 24) یہودی کو دیکھ کر ''فکر ِ مدینہ'' ....
حضرت ابو حفص حدّاد رضی اللہ تعالی عنہ سرِ بازار ایک یہودی کو دیکھ کر بے ہوش ہوگئے ۔ اور ہوش میں آنے کے بعد جب لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا،''اسے عدل کے لباس اور خود کو فضل کے لباس میں دیکھ کر یہ خوف لاحق ہوگیا تھا کہ کہیں اس کا لباس مجھے اور میرا لباس اس کو نہ عطا کر دیا جائے ۔'' (تذکرۃ الاولیاء ج۱، ص ۲۸۸ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )