Brailvi Books

فکرِ مدینہ
56 - 166
لئے روانہ ہوئے تو شہرکے لوگ آپ کی آمد کی اطلاع سن کر کافی فاصلہ پر استقبال کی غرض سے پہنچ گئے ۔ آپ نے جب ان لوگوں کو دور سے دیکھا تو یہ سوچ کر پریشان ہوگئے کہ اگر ان لوگوں سے ملاقات کرتا ہوں تو یادِ الٰہی ل میں غفلت ہوگی ۔ چنانچہ آپ نے ان لوگوں کو منتشر کرنے کی ترکیب اس طرح کی کہ رمضان کے باوجود ایک دکان سے کچھ لے کر کھانا شروع کر دیا ۔ یہ دیکھ کر لوگ متنفر ہو کر واپس ہوگئے ۔آپ نے فرمایا ،''اگرچہ میں نے اجازتِ شرعی (یعنی مسافر کے لئے روزہ نہ رکھنے کی رخصت ) پر عمل کیا لیکن یہ لوگ مجھے برا سمجھ کر منحرف ہوگئے ۔'' (تذکرۃ الاولیاء ،ج ۱ ، ص ۱۳۲ ) 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 (22 )    شب وروز'' فکر ِ مدینہ'' ....
    مروی ہے کہ حضرت رابعہ بصریہ رضی اللہ تعالی عنہا کا معمول تھا کہ جب رات ہوتی اور سب لوگ سو جاتے تو اپنے آپ سے کہتیں ،''اے رابعہ (ہوسکتا ہے کہ)یہ تیری زندگی کی آخری رات ہو ، ہو سکتا ہے کہ تجھے کل کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہو چنانچہ اٹھ اور اپنے رب تعالیٰ کی عبادت کر لے تاکہ کل قیامت میں تجھے ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے ، ہمت کر ، سونا مت ، جاگ کر اپنے رب کی عبادت کر۔۔۔۔۔۔۔''

    یہ کہنے کے بعد آپ اٹھ کھڑی ہوتیں اور صبح تک نوافل ادا کرتی رہتیں ۔ جب فجر کی نماز ادا کر لیتیں تو اپنے آپ کو دوبارہ مخاطب کر کے فرماتیں،''اے میرے نفس!تمہیں مبارک ہو کہ گزشتہ رات تونے بڑی مشقت اٹھائی لیکن یاد رکھ کہ یہ دن تیری زندگی کا آخری دن ہو سکتا ہے۔''یہ کہہ کر پھر عبادت میں مشغول ہو جاتیں اور جب نیند کا غلبہ ہوتا تو اٹھ کر گھر میں ٹہلنا شروع کر دیتیں اور ساتھ ساتھ خود سے فرماتی جاتیں ،
Flag Counter