| فکرِ مدینہ |
فرمایا کہ میں ابھی کپڑوں سمیت نہاؤں گا اور انہیں نچوڑے بغیر بدن پر ہی خشک کروں گا۔ چنانچہ آپ نے ٹھنڈے پانی سے کپڑوں سمیت غسل کیا ، پھر ٹہلتے رہے تاکہ ہوا لگتی رہے حتی کہ آپ کے کپڑے بدن پر ہی خشک ہوگئے ۔(کیمیائے سعادت ج۲،ص ۸۹۲) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 19) ارتکابِ گناہ کے مقام سے گزرنے پر'' فکر ِ مدینہ''....
ایک مرتبہ حضرت سیدنا عتبہ غلام رضی اللہ تعالی عنہ ایک مکان کے پاس سے گزرے تو کانپنے لگے اور آپ کو پسینہ آگیا ۔ لوگوں کے دریافت کرنے پر فرمایا ،''یہ وہی جگہ ہے جہاں میں نے چھوٹی عمر میں گناہ کیا تھا ۔''(تنبیہ المغترین .ص۵۷) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(20 ) تختِ شاہی پر'' فکر ِمدینہ'' ....
ایک مرتبہ لوگوں نے حضرت سیدنا ابراھیم بن ادھم رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا،''آپ نے بادشاہت کیوں چھوڑ دی ؟'' جواب دیا ،''ایک دن میں آئینہ لئے ہوئے شاہی تخت پر براجمان تھا تو مجھے خیال آیا کہ نہ تو میرے پاس طویل سفر (یعنی سفرِ آخرت)کے لئے کوئی زادِ راہ ہے اور نہ کوئی عذر جبکہ میری آخری منزل قبر ہے اور حاکم(یعنی اللہ تعالیٰ) بھی عادل ومنصف ہے ،۔۔۔۔۔۔ بس یہ خیال آتے ہی میرا دل بجھ گیا اور مجھے بادشاہت سے نفرت ہو گئی ۔''(تذکرۃ الاولیاء،ج ۱ ، ص ۹۳ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 21) عقیدتوں کے ہجوم میں ''فکر ِ مدینہ''....
ایک مرتبہ حضرت سیدنا بایزید بسطامی رضی اللہ تعالی عنہ زیارتِ مدینہ کے بعد بسطام کے