Brailvi Books

فکرِ مدینہ
54 - 166
قاضی،رب تعالیٰ کی ذات ہو گی اور جیل ، جہنم ہو گی جبکہ اس کا داروغہ سَیِّدُنا مالک ہوں گے ۔اس دن کا قاضی(معاذ اللہ ) ناانصافی کی طرف مائل نہیں ہوگا اور نہ ہی داروغہ کوئی رشوت قبول کریگا اور نہ ہی جیل توڑنا ممکن ہوگا کہ تو وہاں سے فرار ہو سکے ، قیامت کے دن تیرے لئے ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔ اس کا بھی علم نہیں کہ فرشتے تجھے کہاں لے جائیں گے ، عزت وآرام کے مقام 'جنت میں یا حسرت اور تنگی کی جگہ جہنم میں ؟ ۔۔۔۔۔۔'' اس دوران آپ کی چشمانِ مبارک سے آنسو بھی بہتے رہتے ۔ (حکایات الصالحین،ص ۵۰)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 17) نگاہ اوپر اٹھ جانے پر''فکر ِ مدینہ'' ....
    حضرت سیدنا مجمع رضی اللہ تعالی عنہ  نے ایک مرتبہ اوپر کی طرف دیکھا کہ تو ایک چھت پر موجود کسی عورت پر نظر پڑ گئی ۔آپ نے فوراً نگاہ جھکا لی اور اس قدر پشیمان ہوئے کہ عہد کر لیا کہ ''آئندہ کبھی اوپر نہ دیکھوں گا ۔''(کیمیائے سعادت ج۲،ص ۸۹۳)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 18) غسل میں سستی ہونے پر'' فکر ِ مدینہ ''....
    ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابن الکریبی رضی اللہ تعالی عنہ کو سخت سردی کے موسم میں رات کے وقت احتلام ہوگیا ۔ آپ کے نفس نے سستی دلائی کہ ابھی سو جاؤ ،کافی رات باقی ہے ، صبح اطمینان سے حمام میں غسل کر لینا ۔لیکن آپ نے اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے ارشاد
Flag Counter