| فکرِ مدینہ |
احرام باندھا تو تلبیہ (یعنی لبیک)نہیں پڑھی ۔ لوگوں نے عرض کی ،''حضور! آپ لبیک کیوں نہیں پڑھتے ؟'' آبدیدہ ہو کر ارشاد فرمایا،''مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں لبیک کہوں اور اللہ عزوجل کی طرف سے ''لاَ لَبَّیْکْ''کی آواز نہ آجائے ، یعنی میں تو یہ کہوں کہ'' اے میرے مالک ! میں بار بار تیرے دربار میں حاضر ہوں ۔'' اور ادھر سے یہ آواز نہ آجائے کہ'' نہیں نہیں ! تیری حاضری قبول نہیں ۔''لوگوں نے کہا ، ''حضور! پھر لبیک کہے بغیر آپ کا احرام کیسے ہوگا؟'' یہ سن کر آپ نے بلند آواز سے
لَبَّیْکْ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکْ لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکْ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْک لاَشَرِیْکَ لَکْ
پڑھا لیکن ایک دم خوفِ خدا عزوجل سے لرز کر اونٹ کی پشت سے زمین پر گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش میں آتے تو ''لبیک'' پڑھتے اور پھر بے ہوش ہوجاتے ، اسی حالت میں آپ نے حج ادا فرمایا۔ (اولیائے رجال الحدیث ص۱۶۴ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 16) روزانہ ''فکر ِ مدینہ ''....
حضرت سَیِّدُنا عطاء سلمی رضی اللہ تعالی عنہ جنہوں نے خوفِ خدا کی وجہ سے چالیس سال تک آسمان کی طرف نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی نے انہیں مسکراتے ہوئے دیکھا ،اِن کے بارے میں منقول ہے کہ آپ روزانہ اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرماتے ،''اے نفس! تو اپنی حد میں رہ اور یاد رکھ تجھے قبر میں بھی جانا ہے ، پلِ صراط سے بھی گزرنا ہے ، دشمن (یعنی آنکڑے)تیرے ارد گرد موجود ہوں گے جو تجھے دائیں بائیں کھینچیں گے ، اس وقت