Brailvi Books

فکرِ مدینہ
52 - 166
ابوالحسن نوری  رضی اللہ تعالی عنہ ایک گڑھے میں آرام فرما رہے ہیں ۔ ہم سب نے مل کر انہیں گڑھے سے باہر نکالا اور(بھر پور اصرار کر کے) شہر میں لے آئے۔ آپ صنے مجھے شرفِ میزبانی عطا فرمایا اور چند دن میرے گھر مقیم رہے ۔ 

    جب آپ روانہ ہونے لگے تو میں نے آپ سے اُس گڑھے میں آرام کرنے کا مقصد پوچھا۔ آپ نے جواب دیا ،''اس کا سبب یہ تھا کہ جب میں سفر کرتا ہوا اس مقام پر پہنچا تو میرا نفس خوشی سے جھومنے لگا اور کہنے لگا کہ میں جلد ہی شہر میں داخل ہوجاؤں گا ، جہاں بہت سے لوگ مجھے جاننے اور پہچاننے والے ہیں ، وہ میری مہمان نوازی کریں گے اور مجھے طرح طرح کے لذیذ کھانے کھلائیں گے ۔'' جب میں نے اپنے نفس کی یہ حالت دیکھی تو سخت افسردہ ہوا ۔ چنانچہ میں  نے اسے مخاطب کرکے کہا،''اے نفس ! تو اس بات پر خوش ہورہا ہے کہ تجھے اچھے اچھے کھانے ملیں گے ، آرام وسکون حاصل ہوگا ، رب تعالیٰ کی قسم ! میں تجھے شہر نہیں لے کر جاؤں گا بلکہ تجھے یہیں قید کردوں گا اور تیری موت بھی اسی جگہ واقع ہوگی ، تُو کبھی بھی قادسیہ شہر کا نظارہ نہیں کرسکے گا ۔''لہذا میں نے نذر مان لی کہ میں شہر میں داخل نہیں ہوں گا اور نہ ہی اپنے نفس کی خواہش کو پورا کروں گا ۔'' 

(حکایات الصالحین ،ص۳۳)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 15) احرام باندھنے کے بعد'' لبیک'' کہنے سے پہلے''فکر ِ مدینہ'' ..
     حضرت سَیِّدُنا امام علی بن حسین زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ علمِ حدیث میں اپنے والد ِ ماجد حضرت سَیِّدُنا امام حسین ودیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے وارث ہیں ۔ آپ بڑے خدا ترس تھے اور آپ کا سینہ مبارک خشیتِ الٰہی کا سفینہ تھا ۔ ایک مرتبہ آپ نے حج کا
Flag Counter