| فکرِ مدینہ |
جن سے میں بے خبر تھا ، آہ! ہمارے اعمال کا کیا بنے گا کہ جب وہ خداوند ِ عالم ل کی بارگاہ میں پیش کئے جائیں گے ، نہ جانے اس وقت ان کے کیسے کیسے عیوب ونقائص ظاہر ہوں گے جن سے آج ہم بے خبر ہیں ۔''(منہاج العابدین ، ص ۱۸۹ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 13) روتے ہوئے'' فکر ِ مدینہ'' ....
حضرت سیدنا مالک بن دینار رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ عشاء کے بعد وضو فرماتے اور اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوجاتے ۔ پھر اپنی داڑھی تھام کر روتے اور عرض کرتے ،''اے اللہل ! مالک کے بڑھاپے کو جہنم پر حرام فرمادے ، یا الٰہی عزوجل؛! تو جانتا ہے کہ کون اہل ِ جنت میں سے ہے اور کون دوزخ والوں میں سے ؟ تو میں کن میں سے ہوں؟ اور کون سا گھر میرا ہے (جنت یا دوزخ)؟ ''آپ انہی مناجات میں مصروف رہتے یہاں تک کہ فجر کا وقت ہوجاتا ۔(المتجر الرابح ، ص ۱۸۵) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(14 ) شہر میں داخلے سے پہلے '' فکر ِ مدینہ'' ....
حضرت سیدنا ابوالقاسم قادسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات قادسیہ شہر کے باسیوں نے سنا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ ،''اے قادسیہ والو!اللہ عزوجل کے ایک ولی نے اپنے نفس کو''درندوں کے جنگل ''میں قید کردیا ہے ۔ جاؤ اور اسے شہر میں لے آؤ ،ایسا نہ ہو کہ درندے اسے کوئی نقصان پہنچا دیں ۔''یہ غیبی آواز سن کر تمام شہر والے جنگل کی طرف روانہ ہوگئے اور میں بھی ان کے ساتھ ہولیا ۔ایک جگہ پہنچ کر ہم نے دیکھا کہ حضرت سیدنا