Brailvi Books

فکرِ مدینہ
50 - 166
۔۔۔۔۔۔ اس دہکتی ہوئی زمین کا تصور کرو اور اس گرم توے کو دیکھو کہ یہ تو دنیا کی آگ سے گرم ہوا ہے ، اس کی تپش تو انگارے کی مانند دہکتی ہوئی تانبے کی زمین کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔''پھر آپ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی ،''
ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْم
 (ترجمہ کنزالایمان: پھر بے شک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کی پرسش(پوچھ گچھ) ہو گی ۔ (پ۳۰.التکاثر:۸)

     یہ سن کر لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے ۔

(تذکرۃ الاولیاء ، ج۱ ، ص ۲۲۲،بتصرف ما)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 (12 ) کام میں عیب نکلنے پر'' فکر ِ مدینہ ''....
    حضرت سیدنا عطاء سلمی رضی اللہ تعالی عنہ سے نے ایک کپڑے کو بُننے میں بڑی محنت کی اور وہ کپڑا بہت خوبصورت تیار ہوا ۔ آپ اسے لے کر بازار گئے اور کپڑے کے تاجر کو دکھایا ۔ اس نے اس کی بہت تھوڑی قیمت لگائی اور کہنے لگا ،''اس میں فلاں فلاں عیب ہیں ۔'' آپ نے اس کپڑے کو واپس لے لیا اور رونے لگے اوربہت دیر تک روتے رہے ۔ 

    یہ دیکھ کر وہ تاجر بڑا شرمندہ ہوا اور آپ سے معذرت کرتے ہوئے وہ قیمت دینے پر راضی ہوگیا جو آپ نے طلب کی تھی ۔لیکن آپ نے فرمایا ،''میں قیمت کی کمی پر آنسو نہیں بہارہا بلکہ میں تو اس لئے رو رہا ہوں کہ میں کپڑے بُننے کا کام جانتا ہوں اور میں نے اس کپڑے کی تیاری کے دوران اسے مضبوط اور شاندار بنانے کے لئے بے حد محنت کی اور میرے گمان کے مطابق اس میں کوئی عیب نہ تھا ۔ پھر جب میں نے اسے عیوب کی پہچان رکھنے والے کے سامنے پیش کیا تو اُس نے اِس کے وہ عیوب گنوا دئيے
Flag Counter