لیں ۔ دعوت والے دن اس نے پرتکلف کھانے کا اہتمام کیا ۔ اللہ کے ولی کی زیارت کے لئے بہت سے لوگ بھی جمع ہوگئے ۔ وقتِ مقررہ پر حضرتِ سیدنا حاتم اصم رضی اللہ تعالی عنہ بھی تشریف لے آئے اور آتے ہی جوتے اتارنے کی جگہ پر بیٹھ گئے ۔ میزبان چونکہ یہ شرط مان چکا تھا کہ'' حضرت جہاں چاہیں گے بیٹھیں گے، ''لہذا بے بس ہو کر رہ گیا ۔ کچھ دیر بعد کھانا شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تو لوگوں نے طرح طرح کے لذیذ کھانوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا لیکن اللہ عزوجل کے ولی نے اپنی جھولی میں ہاتھ ڈال کر سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا نکالا اورتناول فرمانے لگے ۔ میزبان اس مقام پر بھی کچھ نہ کر سکا ۔
جب کھانے کا سلسلہ اختتام کو پہنچا تو آپ نے میزبان سے فرمایا ،''دہکتی ہوئی انگیٹھی (یعنی چولہا)لاؤ اور اس پر ایک توا رکھو ۔'' آپ کے حکم کی تعمیل کی گئی ۔ جب وہ توا آگ کی تپش سے سرخ ہو گیا تو آپ اس پر ننگے پاؤں کھڑے ہوگئے اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ،''میں نے آج ایک سوکھی روٹی کھائی ہے۔'' اورتوے سے نیچے تشریف لے آئے ۔پھر حاضرین سے فرمایا،'' (تیسری شرط کے مطابق )اب آپ حضرات باری باری اس توے پر کھڑے ہوکر اپنے کھانے کا حساب دیجئے۔ ''یہ سن کر لوگوں کی چیخیں نکل گئیں اور سب بیک زبان بول اٹھے ،''حضور! آپ تو اللہ لکے ولی ہیں اور اس گرم توے پر کھڑا ہونا آپ کی کرامت ہے ، ہم گناہ گاروں میں اتنی طاقت کہاں کہ اس پر کھڑے ہوسکیں ؟''
آپ رضي الله تعالي عنه نے دعوتِ محاسبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ،''اے لوگو! وہ وقت یاد کرو جب سورج جو آج کروڑوں میل دور ہے ،صرف سوا میل دور ہوگا ۔۔۔۔۔۔ آج اس کی پشت ہماری جانب ہے ، اس دن اس کا اگلا حصہ ہماری طرف ہوگا ۔۔۔۔۔۔ زمین تانبے کی ہوگی