Brailvi Books

فکرِ مدینہ
48 - 166
 ( 10) کیچڑ لگنے پر'' فکر ِ مدینہ'' ....
    ایک مرتبہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کسی جگہ تشریف لے جارہے تھے ۔راستہ میں کیچڑ تھی ،ایک جگہ آپ کے پاؤں کی ٹھوکر سے تھوڑی کیچڑ اڑ کر کسی شخص کے مکان کی دیوار سے جا لگی ۔ آپ شدید پریشان ہوئے کہ اگر کیچڑکھرچ کر دیوار صاف کی جائے تو دیوار کی کچھ مٹی بھی اس کے ساتھ اتر آئے گی اور اگر یونہی چھوڑ دیا جائے تو اس مکان کی دیوار خراب ہوتی ہے ۔ آپ اسی پریشانی میں تھے کہ اتفاق سے صاحب خانہ باہر نکل آیا جو کہ ایک یہودی تھا اور آپ کا مقروض بھی تھا ۔ وہ آپ کو دیکھ کر سمجھا کہ شاید آپ قرض وصول کرنے آئے ہیں ۔لہذا! وہ پریشان ہوکر   قرض  کی ادائی میں تاخیر کا عذر پیش کرنے لگا۔لیکن آپ نے فرمایا ، ''قرض کو چھوڑو ، میں تو اس شش وپنج میں ہوں کہ تمہاری اس دیوار کو کس طرح صاف کروں کیونکہ اگر کیچڑ کھرچتا ہوں تو قوی احتمال ہے کہ دیوار کی کچھ مٹی بھی ساتھ ہی اتر آئے گی اور اگر یونہی چھوڑ دوں تو تمہاری دیوار بدنُما نظر آئے گی۔''یہ سن کر وہ یہودی بے ساختہ کہنے لگا ،''حضور! دیوار تو بعد میں صاف کیجئے گا پہلے کلمہ پڑھا کر(یعنی مسلمان کر کے) میرا دل پاک کردیجئے۔''

(تذکرۃ المحدثین ،ص ۵۷)
 ( 11) دعوت میں ''فکر ِ مدینہ'' ....
    حضرت سیدنا حاتم اصم رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک شخص نے دعوتِ طعام دی لیکن آپ نے انکار فرمادیا ۔ جب اس شخص نے بے حد اصرار کیا تو فرمایا ،''اگر تمہیں میری تین شرطیں قبول ہوں توآؤں گا ۔پہلی : میں جہاں چاہوں گا بیٹھوں گا،۔۔۔۔۔۔دوسری : جو چاہوں گا کھاؤں گا،۔۔۔۔۔۔تیسری : جو میں کہوں گا وہ تمہیں کرنا ہوگا ۔''اس مالدار نے یہ تینوں شرائط منظور کر
Flag Counter