حضرت سیدنا محمد بن واسع رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد ایک شخص نے ان کی زوجہ محترمہ سے ان کی عبادت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا ،''وہ دن بھر گھر کے ایک کونے میں'' فکرِ مدینہ'' میں مشغول رہتے تھے ۔'' (احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص ۱۶۲ )
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 9) ہر دم ''فکر ِ مدینہ'' ....
منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنا حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ چالیس برس تک نہیں ہنسے ۔ جب ان کو بیٹھے ہوئے دیکھا جاتا تو یوں معلوم ہوتا گویا ایک قیدی ہیں جسے گردن اڑانے کے لئے لایا گیا ہو، اور جب گفتگو فرماتے تو انداز ایسا ہوتا گویا آخرت کو آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر بتا رہے ہیں ، اور جب خاموش رہتے تو ایسا محسوس ہوتا گویا ان کی آنکھوں میں آگ بھڑک رہی ہے ۔ جب ان سے اس قدر غمگین وخوف زدہ رہنے کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا ،''مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرے بعض ناپسندیدہ اعمال کو دیکھ کر مجھ پر غضب فرمایااور یہ فرمادیا کہ جاؤ! میں تمہیں نہیں بخشتا۔تو میرا کیا بنے گا؟''
(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۳۱)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )