| فکرِ مدینہ |
تو اس قدر روتے کہ آپ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو جاتی ۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی ، ''جنت اور دوزخ کے تذکرے پر آپ اتنا نہیں روتے جتنا کہ قبر پر روتے ہیں؟'' تو ارشاد فرمایا ، '' میں نے نبی کریم اسے سنا ہے کہ ''قبر آخرت کی سب سے پہلی منزل ہے ، اگر صاحبِ قبر نے اس سے نجات پالی تو بعد (یعنی قیامت) کا معاملہ آسان ہے اور اگر اس سے نجات نہ پائی تو بعد کا معاملہ زیادہ سخت ہے ۔'' پھر فرمایا ،''قبر کا منظر سب مناظر سے زیادہ ہولناک ہے ۔''
(جامع ترمذی ،کتاب الزھد ، رقم الحدیث ۲۳۱۵، ج۴،ص۱۳۸)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 7) محراب میں بیٹھ کر'' فکرِمدینہ'' ....
حضرت سَیِّدُنا ضرار رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ،''میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو کئی مرتبہ دیکھا ،اس وقت کہ جب رات کی تاریکی چھارہی ہوتی ، ستارے ٹمٹما رہے ہوتے اور آپ اپنے محراب میں لرزاں و ترساں اپنے داڑھی مبارک تھامے ہوئے ایسے بے چین بیٹھے ہوتے کہ گویا زہریلے سانپ نے ڈس لیا ہو ۔ آپ غم کے ماروں کی طرح روتے اور بے اختیار ہوکر ''اے میرے رب ! اے میرے رب ! ''پکارتے ، پھر دنیا سے مخاطب ہو کر فرماتے ،''تو مجھے دھوکے میں ڈالنے کے لئے آئی ہے ؟ میرے لئے بن سنور کر آئی ہے ؟ دور ہوجا! کسی اور کو دھوکا دینا ، میں تجھے تین طلاق دے چکاہوں ، تیری عمر کم ہے اور تیری محفل حقیرجبکہ تیرے مصائب جھیلنا آسان ہیں ، آہ صد آہ!زادِ راہ کی کمی ہے اور سفرطویل ہے جبکہ راستہ وحشت سے بھر پور