عید کے دن کچھ لوگ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے کاشانہ اقدس پر حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ دروازہ بند کر کے زاروقطار رو رہے ہیں ۔ لوگوں نے حیران ہو کر عرض کیا ،''یا امیر المؤمنین ! آج تو یومِ عید ہے جو شادمانی ومسرت اور خوشی منانے کا دن ہے ، پھر یہ رونا کیسا ؟'' آپ نے آنسو پونچھتے ہوئے ارشاد فرمایا، ''ھذ ا یوم العید وھذا یوم الوعید یعنی یہ عیدکا دن بھی ہے اور وعید کا دن بھی ہے ، بلاشبہ اس کے لئے آج عید کا دن ہے جس کے نماز وروزہ مقبول ہوگئے اور جس کے نماز وروزہ اس کے منہ پر مار دئیے گئے ہوں (یعنی رد کر دئیے گئے ہوں ) اس کے لئے تو آج وعید کا دن ہے ،اور میں اس خوف سے رو رہا ہوں کہ میں نہیں جانتا کہ میں مقبول بندوں میں سے ہوں یا ٹھکرائے جانے والوں میں سے ؟'' (ماخوذ از فیضان رمضان ، ص ۳۰۳)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )