| فکرِ مدینہ |
فرماتے ہیں کہ مومن ہمیشہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہتا ہے ، کہ اس کلام سے میرا کیا ارادہ تھا ؟ اس کھانے سے کیا مقصود تھا ؟ اس پینے سے میرا کیا ارادہ تھا ؟ جبکہ بدکار آدمی یونہی زندگی بسر کرتا رہتا ہے اور طرح طرح کے کاموں میں مشغول رہتا ہے لیکن کبھی بھی اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرتا ۔''
(احیاء العلوم، کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ ، ج ۵، ص ۱۳۸ )
تقوٰی کا حُصُول ....
حضرت سیدنا میمون بن مہران رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے کہ '' کوئی بندہ اس وقت تک متّقی نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنا محاسبہ اس سے بھی زیادہ کرے جتنا کہ کوئی شریک اپنے ساتھی کا کیا کرتا ہے ۔''
(ذم الھوٰی، الباب الثالث،ص۴۱)
سیدنا ما لک بن دینار رضی اللہ تعالی عنہ کی دعا....
حضرت سیدنا مالک بن دینار رضي رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ،''اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو (اپنا محاسبہ کرتے ہوئے )اپنے آپ سے کہے ،''کیا تو ایسا نہیں ؟ کیا تو ویسا نہیں؟''
(مکاشفۃ القلوب، فی بیان المحبۃ ومحاسبۃ النفس، ص ۲۶۵)
اسلاف ِکرام رضی اللہ تعالی عنہم کی فکر مدینہ (محاسبہ)کے واقعات :
پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے اکابرین رضی اللہ تعالی عنہم نے نہ صرف ہمیں فکرمدینہ کی ترغیب دلائی ہے بلکہ وہ نفوس ِ قدسیہ خود بھی'' فکرِ مدینہ'' میں مشغول رہا کرتے تھے ، چنانچہ۔۔۔۔۔۔
(1 ) پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ''فکر ِ مدینہ'' ....
حضرتِ سیدنا ابوایوب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب کبھی پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہمارے ہاں جلوہ فرمایا کرتے تو ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں پابندی سے ادا فرمایا کرتے اور