''اَلْفِکْرُ مِرْأَۃٌ تُرِیْکَ حَسَنَاتِکَ وَ سَیِّئَاتِکَ
ترجمہ:تفکر ایک ایسا شیشہ ہے جو تجھے تیری نیکیاں اور برائیاں دکھاتا ہے ۔
(احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص ۱۶۲ )
حضرت سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ،
''مَاطَالَتْ فِکْرَۃُ امْرِیءٍ قَطُّ اِلَّا عَلِمَ وَمَاعَلِمَ امْرَؤٌ قَطٌّ اِلَّا عَمِلَ
یعنی :جو شخص زیادہ غوروتفکر کرتا ہے ، اسے علم حاصل ہوتا ہے اور جسے علم حاصل ہوتا ہے وہ عمل کرتا ہے ۔''
(احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص ۱۶۳ )
حضرت سیدنا سفیان بن عینیہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی گفتگو میں اکثر اس شعر سے مثال دیا کرتے تھے ،
اِذَا الْمَرْءُ کَانَتْ لَہُ فِکْرَۃٌ فَفِیْ کُلِّ شَیْءٍ لَہُ عِبْرَۃٌ
یعنی: جب کسی شخص کو فکر کی عادت ہو تو اس کے لئے ہر چیز میں عبرت کا سامان ہوتا ہے ۔
(احیاء العلوم، کتاب التفکر، ج ۵، ص ۱۶۲ )
حضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ
وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ ﴿۲﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور اس جان کی قسم جو اپنے اوپر بہت ملامت کرے ۔ (القیامۃ:۲)''کی تفسیر میں