Brailvi Books

فکرِ مدینہ
42 - 166
آخرت کے بارے میں غور وفکر کرنے(یعنی فکر ِ مدینہ ) سے حاصل ہوتی ہیں ۔''
 (تنبیہ الغافلین.باب التفکر. ،ص۳۰۹ )
اعمال دکھانے والا آئینہ ....
    حضرت سیدنا فضیل رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا،
''اَلْفِکْرُ مِرْأَۃٌ تُرِیْکَ حَسَنَاتِکَ وَ سَیِّئَاتِکَ
ترجمہ:تفکر ایک ایسا شیشہ ہے جو تجھے تیری نیکیاں اور برائیاں دکھاتا ہے ۔
 (احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص ۱۶۲ )
علم کا حصول ....
    حضرت سیدنا وہب بن منبہ  رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ،
''مَاطَالَتْ فِکْرَۃُ امْرِیءٍ قَطُّ اِلَّا عَلِمَ وَمَاعَلِمَ امْرَؤٌ قَطٌّ اِلَّا عَمِلَ
یعنی :جو شخص زیادہ غوروتفکر کرتا ہے ، اسے علم حاصل ہوتا ہے اور جسے علم حاصل ہوتا ہے وہ عمل کرتا ہے ۔''
 (احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص ۱۶۳ )
عبرت کا سامان ....
    حضرت سیدنا سفیان بن عینیہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی گفتگو میں اکثر اس شعر سے مثال دیا کرتے تھے ،
اِذَا الْمَرْءُ کَانَتْ لَہُ فِکْرَۃٌ         فَفِیْ کُلِّ شَیْءٍ لَہُ عِبْرَۃٌ
یعنی: جب کسی شخص کو فکر کی عادت ہو تو اس کے لئے ہر چیز میں عبرت کا سامان ہوتا ہے ۔
 (احیاء العلوم، کتاب التفکر، ج ۵، ص ۱۶۲ )
سعادت مندی کا کام....
    حضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ
وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ ﴿۲﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور اس جان کی قسم جو اپنے اوپر بہت ملامت کرے ۔ (القیامۃ:۲)''کی تفسیر میں
Flag Counter