Brailvi Books

فکرِ مدینہ
41 - 166
آخرت میں سب زیادہ ہنسنا اسی کو نصیب ہو گا جو دنیا میں(خوف خدا عزوجل سے) سب سے زیادہ رونے والا ہو اور بروز ِ قیامت سب سے زیادہ ستھرا ایمان اسی کا ہوگا جو دنیا میں زیادہ غور وفکر کرنے والا ہے ۔
 (تنبیہ الغافلین.باب التفکر. ص ۳۰۸ )
حسابِ قیامت آسان ....
    حضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ''قیامت کے دن ان لوگوں کا حساب آسان ہوگا جو آج دنیا میں اللہ عزوجل کی رضا کے لئے اپنا محاسبہ کرتے ہیں ، وہ اس طرح کہ انہیں جب بھی کوئی کام درپیش ہو تو پہلے اس پر غور کرتے ہیں ،پھر اگر وہ کام رضائے الٰہی عزوجل کے لئے ہوتواسے کرگزرتے ہیں اور اگر اس کے برخلاف نظر آئے تو رک جاتے ہیں۔''پھر فرمایا ،''اور بروزِ قیامت ان لوگوں کا حساب کٹھن ہوگا جو آج دنیا میں عمل کرتے وقت غوروفکر نہیں کرتے اور کسی قسم کا محاسبہ کئے بغیر وہ کام کر ڈالتے ہیں ۔ ایسے لوگ دیکھیں گے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کا چھوٹے سے چھوٹا عمل شمار کر رکھا ہے ۔ ''پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ،
''وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا الْکِتٰبِ لَایُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَاکَبِیْرَۃً اِلَّااَحْصٰھَا۔
ترجمہ کنزالایمان: اور کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نوشتہ کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر نہ لیا ہو۔
 (پ۱۵.الکھف :۴۹)          (ذم الھوٰی،الباب الثالث ، ص ۳۹)
عبادت کی تکمیل ....
     ایک بزرگ کا قول ہے ،''عبادت کی تکمیل صدقِ نیت میں ہے ، عمل کی اصلاح انکساری میں ہے اور ان دونوں کی تکمیل دنیا سے منہ موڑنے میں ہے اور یہ تمام باتیں
Flag Counter