| فکرِ مدینہ |
وَاِذَا عُرِضَ لَہُ اَمْرَانِ اَحَدُھُمَا لِلدُّنْیَا وَالْآخَرُ لِلْآخِرَۃِ اِخْتَارَ الْآخِرَۃَ عَلَی الدُّنْیَا ۔
تین باتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں پائی جائیں اس کا ایمان کامل ہوجاتا ہے ،
(۱)وہ اللہ تعالیٰ کے معاملات میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتا ،
(۲)اپنے کسی عمل میں ریاکاری نہیں کرتا ، اور۔۔۔۔۔۔
(۳) جب اس کے سامنے دوباتیں پیش ہوں ،ایک کا تعلق دنیا سے ہو اور دوسری کا آخرت سے تو وہ دنیا پر آخرت کوترجیح دیتا ہے ۔(کنزالعمال،کتاب المواعظ والرقائق،ج۱۵،ص۳۴۵ ، رقم الحدیث ۴۳۲۴۰)
قلبی نورانیت....
حضرت عثمانِ غنی رضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہیں کہ''دنیا کی فکر دل میں اندھیرا جب کہ آخرت کی فکر روشنی ونور پیدا کرتی ہے۔''
(المنبھات علی الاستعداد لیوم المعاد ، ص ۴)
ندامت کی توفیق....
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ،
''اَلتَّفَکُّرُ فِی الْخَیْرِ یَدْعُوْ اِلَی الْعَمَلِ بِہِ وَالنَّدْمُ عَلَی الشَّرِّ یَدْعُوْ اِلَی تَرْکِہِ
یعنی : اچھی باتوں کے بارے میں سوچنے سے ان پر عمل کی ترغیب ملتی ہے اور برائیوں پر نادم ہونے سے انہیں چھوڑنے کی توفیق ملتی ہے ۔
(احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص ۱۶۳ )
آخرت کی خوشی ....
حضرت سیدنا عامر بن قیس رضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہیں کہ ،'' آخر ت میں سب سے زیادہ خوش وہ شخص ہو گا جو دنیا میں (آخرت کے بارے میں )سب سے زیادہ متفکر رہنے والا ہو اور