Brailvi Books

فکرِ مدینہ
39 - 166
                                                                                                                                                                               ثابت ہوں، ان کو مزید بہتر کرے اور جو کام اِس نفع کے حصول میں رکاوٹ بن رہے ہوں، انہیں چھوڑ دے تو وہ بتوفیق ِ خداوندی کامیابی سے ہمکنار ہو گا اور بطورِ نفع اسے داخلِ جنت ہونا نصیب ہوگا ۔ اور اگر ایسا کرنے کی بجائے وہ،''خواب ِ غفلت '' کا شکار رہا تو وہ خسارے میں رہے گا جس کا نتیجہ دخولِ جہنم کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔(والعیاذ باللہ )

(2) نقلی(منقولی) اعتبار سے:

     فکر ِمدینہ(محاسبہ) کے بارے میں ہمارے پیارے آقاتاجدارِ مدینہ، سلطان ِمکہ مکرمہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور اسلاف ِکرام ث نے کثیر فضائل بیان فرمائے ہیں ، چنانچہ۔۔۔۔۔۔
ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر....
سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا
،'' فِکْرَۃُ سَاعَۃٍ خَیْرٌ مِّنْ عِبَادَۃِسِتِّیْنَ سَنَۃٍ
 (امورِ آخرت میں)گھڑی بھر غور وفکر کرنا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے ۔
''(کنزالعمال،ج۳ ، ص ۴۸،رقم الحدیث ۵۷۰۷ )
سمجھدار کون؟....
    سرورِ عالم ،نورِ مجسم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،
'' اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَعَمِلَ لِمَا َبعْدَ الْمَوْتِ وَالْاَحْمَقُ مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَہُ ھَوَاھَا وَتَمَنّٰی عَلَی اللہِ۔
سمجھ دار وہ شخص ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور آخرت کی بہتری کے لئے نیکیاں کرے اور احمق وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ تعالیٰ سے انعامِ آخرت کی امید رکھے ۔
 (مسند احمد بن حنبل ، ج ۶، ص۷۸۰ ، رقم ۱۷۱۲۳مرویات شداد بن اوس )
ایمانِ کامل کی نشانی....
    سرکارِ مدینہ ،سُرورِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،
'' ثَلَاثَۃٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ اسْتَکْمَلَ اِیْمَانَہُ لَایَخَافُ فِی اللہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ وَلَایُرَائِی بِشَیءٍ مِّنْ عَمَلِہِ
Flag Counter