Brailvi Books

فکرِ مدینہ
38 - 166
زندگی پرغور وفکر کرے ،پھر جو کام اس کی آخرت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہوں،انہیں درست کرنے کی کوشش میں لگ جائے اور جو امور اُخروی اعتبار سے نفع بخش نظر آئیں ،ان میں بہتری کے لئے اقدامات کرے ۔''
فکر ِ مدینہ (محاسبہ)کے فوائد:
    فکر ِ مدینہ کے فوائد کو دوطرح سے سمجھا جاسکتا ہے ،

(1)عقلی اعتبار سے ۔۔۔۔۔۔    (2)نقلی (یعنی منقولی) اعتبار سے ۔۔۔۔۔۔

(1) عقلی اعتبار سے :

    جس طرح دنیاوی کاروبار سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص اسی وقت کامیاب کاروباری بن سکتا ہے جب وہ اپنی لاگت سے کئی گنا زیادہ نفع کمانے میں کامیاب ہوجائے اور اس کا اصل سرمایہ بھی محفوظ رہے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ اپنی کارکردگی کو روزانہ ، ہفتہ وار ، ماہانہ یا سالانہ کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے ۔پھر اس پرمختلف پہلوؤں سے نہ صرف زبانی غور وتفکر کرتا ہے بلکہ اس کو ضبط ِتحریر میں بھی لاتا ہے۔ جہاں کسی قسم کی خامی نظر آئے اسے درست کرتا ہے اور جوشے نفع کے حصول میں رکاوٹ بنتی نظر آئے اس کو دور کرتا ہے ۔

     اگر وہ اپنے کاروباری معاملات کا محاسبہ نہ کرے تواکثر اوقات اسے نفع حاصل ہونا تو درکنار ،الٹا نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر بھی اگر وہ ''خواب ِ خرگوش'' سے بیدار نہ ہوتو ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ اس کا اصل سرمایہ بھی باقی نہیں رہتا اور وہ کوڑی کوڑی کا محتاج ہوجاتا ہے ۔ 

    با لکل اسی طرح جو شخص ''کاروبارِ آخر ت'' میں نفع کمانے کا آروزمند ہو اسے بھی چاہیے کہ اپنے کئے گئے اعمال پر غور کرے ، جو اعمال اس کو نفع دلوانے میں معاون
Flag Counter