Brailvi Books

فکرِ مدینہ
37 - 166
    (16) حضرت سیدنا محمد بن حاتم ترمذی رضی اللہ تعا لی عنہ  فرماتے ہیں کہ،''تیرا اصل سرمایہ تیرا دل اور وقت ہے ، لیکن تیرے دل کو گندے خیالات نے پھانس لیا اور اپنے وقت کو تم خود بے کار کاموں میں مصروف ہو کر ضائع کر رہے ہو ، وہ شخص نفع کس طرح کما سکتا ہے جس کا اصل سرمایہ ہی خسارے میں ہو ؟''
(ذم الھوٰی، الباب الخمسون، ص۵۰۰)
    (17) حضرت سیدنا امام اوزاعی رضی اللہ تعا لی عنہ  نے اپنے بھائی کو خط میں لکھا کہ ،''یاد رکھو! تمہیں ہر طرف سے گھیر لیا گیا ہے (یعنی تم احکامِ شرعی کے پابند ہو )، اور تمہیں دن رات (موت کی منزل کی طرف ) ہانکا جارہا ہے ۔ پس تم اللہ تعالیٰ اور اس کی بارگاہ میں حاضری سے ڈرتے رہو اور دمِ واپسی تک اس پر قائم رہو ۔ والسلام ''
 (ذم الھوٰی، الباب الخمسون، ص۴۹۹)
پیارے اسلامی بھائیو!

        دنیا میں ہی اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی ترغیب پر مشتمل ان روایات کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں چاہے کہ سمجھ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنا محاسبہ (یعنی فکر مدینہ)کرنے کی عادت اپنانے کی کوشش میں لگ جائیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں یونہی غفلت کی حالت میں موت آجائے اور ہمارے دامن میں پچھتاوے کے احساس کے سواء کچھ بھی نہ باقی رہے ۔

مدینہ:     محاسبہ کو'' دعوتِ اسلامی'' کی مدنی اصطلاح میں'' فکرِ مدینہ ''کہا جاتا ہے ، لہذا!آئندہ صفحات میں بھی فکر مدینہ سے مراد محاسبہ ہی لیا جائے ۔
فکر ِمدینہ (محاسبہ)کسے کہتے ہیں ؟
        فکر ِمدینہ سے مراد یہ ہے کہ،'' انسان اُخروی اعتبار سے اپنے معمولاتِ 
Flag Counter