یاد رکھ سکوں ۔'' یہ سن کر آپ رو پڑے اور فرمایا،'' اے بھائی ! بے شک شب وروز کا آنا جانا تیرے بدن کے گُھلنے ، تیری عمر کے ختم ہونے اور تیری موت کے آنے میں تیزی پیدا کرتا ہے ۔اس لئے میرے بھائی تمہیں چاہیے کہ تم ہرگز مطمئن نہ ہو یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ تمہارا ٹھکانہ کہا ں ہے ؟(جنت میں یا جہنم میں؟ )تمہارا انجام کیا ہوگا ؟ (کامیابی یا ناکامی ؟) تمہارا رب عزوجل تم سے تمہاری معصیت وغفلت کی وجہ سے ناراض ہے یا اپنے فضل ورحمت کے سبب تم سے راضی ہے ؟ اے ضعیف انسان!(یاد رکھ) تُو گزرے ہوئے ایام میں ایک ناپاک قطرہ تھا اور آنے والے وقت میں سڑے ہوئے مردار کی طرح ہوگا ۔ اگر تجھے یہ نصیحت کافی نہیں تو عنقریب وہ وقت آئے گا جب تُو قبر میں جائے گا ، پھر تجھے یہ سب باتیں معلوم ہوجائیں گی ،اس وقت تُو اپنے کئے پرشرمندہ ہوگالیکن ندامت کام نہ آئے گی ۔''
یہ کہہ کر آپ رونے لگے اوروہ شخص آپ کو روتا دیکھ کر رونے لگا ۔ ان دونوں کو روتا دیکھ کر میں بھی رونے لگا یہاں تک کہ وہ دونوں بے ہوش ہو کر گر گئے ۔(ذم الھوٰی، الباب الخمسون، ص۵۰۰)
(15) علامہ عثمان بن حسن علیہ الرحمۃ درۃ الناصحین میں نقل کرتے ہیں کہ، ''دن اور رات میں چوبیس گھنٹے ہیں ۔ ہر انسان ایک گھنٹے میں ایک سواسّی مرتبہ سانس لیتا ہے ۔ اس طرح وہ چوبیس گھنٹوں میں چار ہزار تین سوبیس مرتبہ سانس لیتا ہے ۔ ہر انسان سے سانس اندر کھینچتے ہوئے اور باہر نکالنے کے دوران دو سوال ہوتے ہیں کہ تم نے سانس خارج کرتے وقت کون سا عمل کیا اور سانس لیتے وقت کون سا عمل کیا؟
( المجلس السبعون، ص ۳۱۸)