Brailvi Books

فکرِ مدینہ
35 - 166
خادم نے پانی کا گلاس ہارون رشید کے ہاتھ میں دیا تو آپ نے فرمایا،''یاامیر المؤمنین ! ذراٹھہر جائیے اور مجھے سوچ کر بتائیے کہ اگر شدت کی پیاس میں کہیں پانی نہ ملے اور آپ پیاس سے نڈھال ہوجائیں تو یہ ایک گلاس پانی کتنی قیمت میں خریدیں گے ؟'' ہارون رشید نے جواب دیا ،''آدھی سلطنت دے کر ۔''پھر سیدنا ابن سماک رضي اللہ تعا لي عنہ نے دریافت کیا ،''اگر یہ پانی پی لینے کے بعد آپ کا پیشاب بند ہو جائے اور یہ پانی آپ کے بدن سے نہ نکل سکے تو آپ کتنی رقم اس کے علاج پر خرچ کریں گے ؟''خلیفہ نے جواب دیا ،''بقیہ پوری سلطنت دے کر ۔''

    یہ سن کر سیدنا ابن سماک رضي الله تعا لي عنه نے دعوتِ فکر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا،''اے امیر المؤمنین !وہ سلطنت جس کی قیمت ایک گلاس پانی اور اس کا پیشاب ہو ، اس قابل کہاں کہ اس پر غرور کیا جائے ۔'' یہ کلمات سن کر ہارون رشید دھاڑیں مار مار کر رونے لگا اور کوئی جواب نہیں دیا ۔(تاریخ الخلفاء ، ص ۲۹۳ ) 

    (13) ایک اَعرابی(یعنی عرب کے دیہاتی) نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا،'' کیا زمانہ تجھے نصیحت نہیں کرتا،کیا ایامِ حیات تجھے خبردار نہیں کرتے ؟ حالانکہ تیرے لمحاتِ زندگی شمار کئے جارہے ہیں ، تیری سانسیں (تک ) گنی جارہی ہیں اور ان دونوں میں سے تیری پسندیدہ شے ، تیرے لئے نقصان دہ صورت میں سامنے آئے گی (یعنی تجھے اس کے ضائع کرنے پر افسوس ہوگا ۔)'' (ذم الھوٰی ، الباب الخمسون ، ص ۵۰۰)

    (14) حضرت سیدنا ابراہیم بن بشار رضي اللہ تعا لي عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابویوسف فسولی رضي اللہ تعا لي عنہ کے ہمراہ شام جارہا تھا کہ راستے میں ایک شخص اچھل کر ان کے سامنے آیا اور سلام کرنے کے بعد عرض کرنے لگا ،'' اے ابویوسف ! مجھے کچھ نصیحت فرمائيے جسے میں