Brailvi Books

فکرِ مدینہ
34 - 166
    (10) حضرت سَیِّدُنا حسن بصری  رضی اللہ تعا لی عنہ  ایک جوان کے پاس سے گزرے جو لوگوں کے درمیان بیٹھا ہنسنے میں مشغول تھا ۔ آپ نے اسے دعوتِ محاسبہ دیتے ہوئے پوچھا ، ''اے نوجوان! کیا تو پلِ صراط پار کر چکا ہے ؟'' اس نے عرض کی ،''نہیں ۔''فرمایا ، ''کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم جنت میں جاؤ گے یا جہنم میں ؟'' اس نے کہا ، ''جی نہیں۔''تو آپ نے پوچھا،''پھر یہ ہنسی کیسی ہے ؟''اس کے بعد اس نوجوان کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔
 (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴ ، ص ۲۲۷)
    (11) حضرت سَیِّدُنا یزید رقاشی  رضی اللہ تعا لی عنہ  ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعا لی عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کی کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا،''یا امیر المؤمنین !یاد رکھئے کہ آپ پہلے خلیفہ نہیں ہیں جو مر جائیں گے ۔(یعنی آپ سے پہلے گزرنے والے خلفاء کو موت نے آلیا ۔) ''یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رضي الله تعا لي عنه رونے لگے اور عرض کرنے لگے ، ''کچھ اور بھی فرمائيے۔'' تو آپ نے کہا،'' اے امیر المؤمنین ! حضرت آدم عليه السلام سے لے کر آپ تک آپ کے سارے آباؤ اجداد فوت ہوچکے ہیں ۔'' یہ سن کر آپ مزید رونے لگے اور عرض کی ،''مزید کچھ بتائيے۔'' آپ نے فرمایا ، ''آپ کے اور جنت ودوزخ کے درمیان کوئی منزل نہیں ہے ۔(یعنی دوزخ میں ڈالا جائے گا یا جنت میں داخل کیا جائے گا۔) یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رضي الله تعا لي عنه بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔
(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۹)
    (12) حضرت سیدنا ابن سماک رضی اللہ تعا لی عنہ ایک مرتبہ خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں تشریف لے گئے ۔ ایک دم ہارون رشید کو پیاس لگی اور اس نے پانی طلب کیا ۔ جب
Flag Counter