Brailvi Books

فکرِ مدینہ
33 - 166
کئے ہوں تو اللہ عزوجل کا شکر کرے اور اگر اس سے گناہ سرزد ہوئے ہوں تو توبہ واستغفار کرے ۔ کیونکہ اگر یہ ایسا نہ کریگا تو اس تاجر کی طرح ہوگا جو خرچ کرتا جائے لیکن حساب کتاب نہ رکھے توایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ کنگال ہوجائے گا ۔''
 (تنبیہ الغافلین۔باب التفکر ،ص ۳۰۹ )
    (7) ایک بزرگ کا قول ہے ،''دانائی میں اضافہ چار اشیاء کے سبب ہوتا ہے ، (۱)دنیا کی مصروفیات سے بدن کا فارغ ہونا ،(۲)دنیا کے کھانوں سے پیٹ کا خالی ہونا ،(۳)دنیاوی سامان سے ہاتھ کا خالی ہونا ،(۴)اپنی عاقبت کے بارے میں سوچنا کہ نہ جانے کیسی ہوگی ؟ کیا خبر اس کے اعمال قبول کئے گئے یا نہیں ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو پاکیزہ اور ستھرے اعمال ہی قبول فرماتا ہے ۔''
(تنبیہ الغافلین۔باب التفکر ،ص ۳۰۹ )
    (8) حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعا لی عنہ فرماتے ہیں کہ ،''بے شک مؤمن دنیا میں قیدی کی طرح ہے جو اپنی گردن (دوزخ سے ) آزاد کروانے کی کوشش میں ہے ، وہ اس وقت تک بے خطر نہیں ہوسکتا جب تک بارگاہ ِ الٰہی ل میں حاضر نہ ہوجائے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس سے اس کی سماعت ، بصارت ، زبان اور اعضائے جسمانی کے بارے میں سوال ہوگا۔''(ذم الھوٰی، الباب الثالث ،ص۴۱)

    (9) حضرت سیدنا حاتم اصم رضی اللہ تعا لی عنہ  نے علماء کے گروہ کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ،'' اگر گزرے ہوئے دن پر اظہارِافسوس اور آج کے دن کو غنیمت جانتے ہوئے آنے والے کل سے خوف زدہ ہوتو بہتر ہے ورنہ یادرکھو کہ جہنم تمہارے لئے تیار ہے ۔'' (تذکرۃ الاولیاء، ج۱، ص ۲۲۵ )
Flag Counter