(4) حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعا لی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ،'' اے لوگو!بے شک تم شب وروز کی گردش میں ہو ، تمہارے ایام زندگی کم ہوتے چلے جارہے ہیں، تمہارے اعمال کو جمع کیا جارہا ہے اور موت اچانک آجائے گی ، تو جو تم میں سے نیکیوں کی فصل اگائے گا وہ خوشی خوشی اسے کاٹے گا ،اور جو بدی کا بیج بوئے گا وہ اسے ندامت سے کاٹے گا اور ہر کاشت کار کو وہی ملتا ہے جو وہ بوتا ہے ۔''
(ذم الھوٰی، الباب الخمسون ، ص ۴۹۸)
(5) حضرت سیدنا قتادہ رضی اللہ تعا لی عنہ
وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ﴿۪ۙ۱۰﴾
(ترجمہ کنزالایمان: اور جب نامہ اعمال کھولے جائیں(گے )۔(پ۳۰، التکویر:۱۰)''کی تفسیر میں فرماتے ہیں،'' اے ابن ِآدم! تُو اپنے نامہ اعمال کو بھر رہا ہے پھر اسے لپیٹ دیا جائے گا اور قیامت کے دن تیرے سامنے کھول دیا جائے گا ،لہذا غور کر کہ تو اپنے اعمال نامے میں کیا درج کروا رہا ہے ۔ '' (التفسیرالکبیر، الجزء الرابع،ص۶۱۴)
(6) حضرت سیدنا مکحول شامی رضي الله تعا لي عنه فرماتے ہیں کہ ،''انسان جب بستر پر آرام کرنے لگے تو اپنا محاسبہ کرے کہ آج اس نے کیااعمال کئے ؟ پھر اگر اس نے اچھے اعمال