Brailvi Books

فکرِ مدینہ
30 - 166
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ لْتَنۡظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ
ترجمہ کنزالایمان :اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لئے کیا آگے بھیجا ۔''(پ۲۸،الحشر:۱۸)

    اس آیت کے تحت تفسیر ابن کثیر میں ہے ،''یعنی اپنا محاسبہ کرلواس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور غور کرو کہ تم رب تعالیٰ کی بارگاہ میں لے جانے کے لئے کیا جمع کروارہے ہو ، یاد رکھو! اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال واحوال کو جانتا ہے ،تمہارا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا عمل اس سے پوشیدہ نہیں ہے ۔(ج۸ ، ص ۱۰۶ ) 

     اس آیت کے تحت تفسیر درِ منثور میں ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضي الله تعا لي عنه نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ،''اے لوگو! یادرکھو کہ تم صبح وشام اس موت کی طرف بڑھ رہے ہو جو تمہاری آنکھوں سے اوجھل ہے ،۔۔۔۔۔۔اگر تم سے ہو سکے تو جب موت آئے تو تم اس کے لئے تیار بیٹھے ہو لیکن یہ تم سے توفیق ِ خداوندی کے بغیر نہ ہوسکے گا،۔۔۔۔۔۔ایک قوم نے دوسروں کی موت کو یاد رکھا لیکن اپنی موت کو بھول گئے ،چنانچہ اللہ عزوجل نے تمہیں ان جیسا بننے سے منع فرمایا ہے ،اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
،''وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللہَ فَاَنْسٰھُمْ اَنْفُسَھُمْ اُولٰئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ
.ترجمہ ـ کنزالایمان: اور ان جیسے نہ ہو جو اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے انہیں بلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں وہی فاسق ہیں ۔ (الحشر:۱۹) ۔۔۔۔۔۔ وہ لوگ آج کہاں ہیں جنہیں تم اپنا بھائی کہتے تھے ؟۔۔۔۔۔۔ وہ اس تک پہنچ گئے جو انہوں نے آگے بھیجا تھا ، ۔۔۔۔۔۔ کہاں ہیں وہ جابر حکمران جنہوں نے قلعے اور اس کے ارد گرد مضبوط فصیلیں تعمیر کروائیں ؟۔۔۔۔۔۔ آج وہ پتھریلی زمین اور ٹیلوں میں دفن ہوچکے ہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس کے عجائب فناء نہیں ہوتے اور اس کا نور ماند
Flag Counter