Brailvi Books

فکرِ مدینہ
29 - 166
قیامت تک منہ کے بل رینگتا رہے حتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہی بوڑھا ہوکرمر جائے توبھی وہ قیامت کے دن خواہش کریگا کہ اسے دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ وہ مزید نیکیاں کما سکے۔(الدرالمنثور، ج۸،ص۴۶۹)

اور سورہ اٰل عمران میں ارشاد ہوتا ہے ،۔۔۔۔۔۔
یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیۡرٍ مُّحْضَرًا ۚۖۛ وَّمَا عَمِلَتْ مِنۡ سُوۡٓءٍۚۛ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیۡنَہَا وَبَیۡنَہٗۤ اَمَدًۢا بـَعِیۡدًا ؕ
ترجمہ کنزالایمان :جس دن ہرجان نے جو بھلا کام کیا حاضرپائے گی اور جو برا کام کیا امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا ۔ ''(پ۳،ال عمران ۳۰)

پیارے اسلامی بھائیو!

         یہ فطری بات ہے کہ کسی مقام پر جب انسان کو یہ محسوس ہو کہ اسے کوئی دوسرادیکھ رہا ہے ..یا..کسی آلے کے ذریعے اس کی حرکات کو نوٹ کیاجارہا ہے ..یا ..اس کی آوازریکارڈ کی جارہی ہے تو وہ بے حد محتاط ہوجاتا ہے ،چاہے حقیقتاً ایسا نہ ہو،۔۔۔۔۔۔ مگریہ بات توسابقہ دلائل کی روشنی میں پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ ہماری ہر حرکت کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے ، فرشتے اس کو ریکارڈ بھی کر رہے ہیں ، ہمارے اعضاء ، دن اوررات اوریہ زمین بھی اس کو نوٹ کررہی ہے ،۔۔۔۔۔۔ تو معمولی سی عقل رکھنے والا انسان بھی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ میدان محشر میں شرمندگی اور جہنم کے دل دہلا دینے والے عذابات سے بچنے کے لئے ہمیں کس قدر احتیاط کی ضرورت ہے ؟۔۔۔۔۔۔ لہذا! ہمیں چاہیے کہ آج ہی اپنا محاسبہ کریں کہ ہم کس قسم کے اعمال درج کروا رہے ہیں؟۔۔۔۔۔۔ اس امرکی ترغیب قرآن پاک میں بھی دی گئی ،چنانچہ سورۃ الحشرمیں ارشاد فرمایا ،۔۔۔۔۔۔
Flag Counter