| فکرِ مدینہ |
''وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہ، .فَاُمُّہ، ھَاوِیَۃٌ.وَمَا اَدْرٰکَ مَاھِیَہْ.نَارٌ حَامِیَۃٌ۔
ترجمہ کنزالایمان :اور جس کی تولیں ہلکی پڑیں ، وہ نیچادکھانے والی گودمیں ہے اور تونے کیا جانا کیا نیچا دکھانی والی ایک آگ شعلے مارتی ۔(پ۳۰، القارعۃ:۸،۹،۱۰،۱۱)
لیکن اُس وقت ایسے لوگوں کو سوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا ، کیونکہ یہ تو وہ وقت ہوگا کہ نیک لوگ بھی اپنی نیکیوں میں کمی کی بنا پر حسرت میں مبتلاء ہوں گے ،جیسا کہ سورۃ الفجر میں ارشاد ہوتا ہے ،۔۔۔۔۔۔'' یَوْمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی۔ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ۔
ترجمہ کنزالایمان: اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں ، کہے گا ہائے میں نے جیتے جی نیکی آگے بھیجی ہوتی ۔ ''(پ۳۰۔الفجر۲۳،۲۴)
تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کے تحت ہے ،'' یعنی وہ بندہ اگر گناہ گار ہوگا تو اپنے گناہوں کے ارتکاب پر افسوس کریگا اور اگر نیک ہوگا تو مزید نیکیاں کرنے سے محرومی پر افسوس کریگا ۔(ج۸، ص۳۸۹)
جبکہ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ تفسیر درِ منثور میں حضرت سیدنا ضحاک ص سے نقل کرتے ہیں کہ ''وہ شخص یوں کہے گا :(کاش)میں نے دنیا میں اپنی اُخروی زندگی کے لئے اعمال کئے ہوتے ۔
اورسرور ِ کونین(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ،''لَوْ اَنَّ عَبْدًا جَرَّ عَلَی وَجْھِہِ مِنْ یَوْمٍ وُلِدَ اَنْ یَّمُوْتَ ھَرَمًا فِیْ طَاعَۃِ اللہِ اِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لَوَدَّ اَنَّہُ رُدَّ اِلَی الدُّنْیَا کَیْمَا یَزْدَادُ مِنَ الْاَجْرِ وَالثَّوَابِ ۔
اگر کو ئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے لے کر