Brailvi Books

فکرِ مدینہ
26 - 166
    ''فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہ، بِیَمِیْنِہٖ .فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا.وَیَنْقَلِبُ اِلٰی اَھْلِہٖ مَسْرُوْرًا ۔
ترجمہ کنزالایمان : تو وہ جو اپنا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے (گا) ، اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا ،اور اپنے گھر والوں کی طرف شاد شاد (خوشی خوشی ) پلٹے گا ۔(پ۳۰، الانشقاق:۷،۸،۹)

     اس آیت کی تفسیر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ وہ شخص اپنے گناہوں کو پہچانے گا پھر اس کے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا ۔(التفسیر الدرالمنثور ، ج۸، ص۴۱۹)

اور سورۃ الحآقہ میں ارشاد ہوا ،۔۔۔۔۔۔
    ''یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَاتَخْفٰی مِنْکُمْ خَافِیَۃٌ . فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہ، بِیَمِیْنِہٖ فَیَقُوْلُ ھَآ ؤُمُ اقْرَءُ وْا کِتٰبِیَہْ
.ترجمہ کنزالایمان: اس دن تم سب پیش ہوگے کہ تم میں کوئی چھپنے والی جان چھپ نہ سکے گی ،تو وہ جسے اپنا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا لو میرے نامہ اعمال پڑھو ۔(پ۲۹.الحآقہ:۱۸،۱۹)

نیز سورۃ القارعۃ میں فرمایا،۔۔۔۔۔۔
فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتْ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۶﴾فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ؕ﴿۷﴾
ترجمہ کنزالایمان: تو جس کی تولیں بھاری ہوئیں ، وہ تو من مانتے عیش(یعنی جنت) میں ہیں۔(پ۳۰، القارعۃ:۶،۷)

    اورجسے اس کی شامتِ اعمال کے باعث دوزخ میں جانے کا حکم سنایا جائے گا، وہ انتہائی مغموم ہوگا جیسا کہ سورۃ الحآقہ میں ارشاد ہوتا ہے ،۔۔۔۔۔۔
Flag Counter