Brailvi Books

فکرِ مدینہ
25 - 166
جائے گا ، جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے ،۔۔۔۔۔۔
یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ۬ۙ لِّیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ ؕ﴿۶﴾فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾
ترجمہ کنزالایمان:اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہوکر تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا ۔(پ۳۰،الزلزال ۶،۷،۸)
    اورسرورِ کونین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا،
'' اَلْبِرُّ لَایُبْلٰی وَالْاِثْمُ لَایُنْسٰی وَالدَیَّانُ لَایَنَامُ فَکُنْ کَمَاشِئْتَ کَمَا تُدِیْنُ تُدَانُ۔
نیکی کبھی پرانی نہیں ہوتی ، گناہ کبھی نہیں مٹایا جاتا ، جزاء دینے والا (اللہ عزوجل )کبھی نہیں سوتا ،تم جو چاہے بن جاؤ ،تم جیسا کروگے ویسا بھروگے ۔''
    پھر جس کسی کو بخشش ونجات کا پروانہ ملے گا وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے گا ، جیسا کہ سورہ عبس میں ارشاد ہوتا ہے ،۔۔۔۔۔۔
وُجُوۡہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ ﴿ۙ۳۸﴾ضَاحِکَۃٌ مُّسْتَبْشِرَۃٌ ﴿ۚ۳۹﴾
ترجمہ کنزالایمان: کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے ، ہنستے خوشیاں مناتے ۔''
(پ۳۰،عبس ۳۸،۳۹)
    اس آیت کے تحت تفسیر ابن کثیر میں ہے ،'' یعنی ان کے دل میں پائی جانی والی خوشی ان کے چہروں سے پھوٹ رہی ہوگی اوریہی لوگ جنتی ہوں گے ۔'' (ج۸ ، ص۳۲۷)

جبکہ سورۃالانشقاق میں ارشاد ہوتا ہے ،۔۔۔۔۔۔
Flag Counter