Brailvi Books

فکرِ مدینہ
24 - 166
    ''وَنُخْرِجُ لَہ، یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلْقٰہُ مَنْشُوْرًا. اِقْرَاْ کِتٰبَکَ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا۔
 ترجمہ کنزالایمان: اور اس کے لئے قیامت کے دن ایک نوشتہ(یعنی نامہ اعمال) نکالیں گے جسے کھلا ہوا پائے گا ، فرمایا جائے گا کہ اپنا نامہ پڑھ آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے ۔
(پ۱۵. بنی اسرائیل :۱۳،۱۴)
    امام فخر الدین رازی علیہ الرحمۃاس آیت کے تحت تفسیر ِ کبیر میں امام حسن ص کا قول نقل کرتے ہیں کہ، ''اپنا اعمال نامہ ہر ایک پڑھے گا چاہے وہ دنیا میں پڑھنا جانتا ہویا نہ جانتا ہو ۔''
(الجزء العشرون ، ص ۳۰۹)
     جبکہ شاہ بنی آدم ، نور مجسم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،
''اِنَّ الْمُؤْمِنَ یُسْئَلُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَنْ سَعْیِہٖ حَتّٰی کُحْلِ عَیْنَیْہِ۔
 بے شک قیامت کے دن آدمی سے اس کے ہر ہر کام حتی کہ آنکھ کے سرمے کے بارے میں بھی  پوچھا جائے گا ۔
(حلیۃ الاولیاء ، ج ۱۰، ص۳۱۔رقم ۱۴۴۰۴)
    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ،
'' مَامِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اِلَّا سَیُکَلِّمُہُ رَبُّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَیْسَ بَیْنَ اللہِ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ ۔
ترجمہ : تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس سے اس کا رب عزوجل عنقریب گفتگو کر ے گا(یعنی اس سے حساب لے گا) جبکہ ان دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا ۔''
(ذم الھوٰی، الباب التاسع والاربعون ،ص ۴۴۷)٭
    اس کے بعد ہمیں اِن اعمال کا پورا پورا بدلہ جزاء یا سزا کی صورت میں دیا
Flag Counter