(7) سورۃ الانبیاء میں ہے ،۔۔۔۔۔۔
''وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِھَا وَکَفٰی بِنَا حَاسِبِیْنَ۔
ترجمہ کنزالایمان :اور ہم عدل کی ترازو ئیں رکھیں گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب کو ۔''(پ ۱۷،الانبیاء ۴۷)
(8) سورۃ المجادلہ میں ہے ،۔۔۔۔۔۔
یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللہُ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ اَحْصٰىہُ اللہُ وَ نَسُوۡہُ ؕ وَ اللہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ٪﴿۶﴾
ترجمہ کنزالایمان:جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا پھر انہیں ان کے کوتک(کام)جتا دے گا اللہ نے انہیں گن رکھا ہے اور وہ بھول گئے اور ہر چیز اللہ کے سامنے ہے ۔'' (پ۲۸،المجادلۃ ۶)
صرف یہی نہیں بلکہ ہمیں اپنے نامہ اعمال کو سب کے سامنے پڑھ کر سنانا ہوگا ،اور اپنے کئے کا حساب دینا ہوگاجیسا کہ سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔