| فکرِ مدینہ |
علامہ جلا ل الدین سیوطی علیہ الرحمۃ اس آیت کے تحت تفسیر درِ منثور میں حضرت سیدنا ابن ِ جریج رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ،''جب انسان مر جاتا ہے تو اس کااعمال نامہ لپیٹ دیا جاتا ہے پھر قیامت کے دن اسے کھولا جائے گا اور بندہ اس میں درج کی گئی باتوں کا حساب دے گا ۔(ج ۸، ص۳۹۴)
(2) سورۃ النبا میں ہے ،۔۔۔۔۔۔'' یَوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَاقَدَّمَتْ یَدٰہُ
ترجمہ کنزالایمان: جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھ نے آگے بھیجا ۔(پ۳۰۔النبا۴۰)
اس آیت کے تحت تفسیر ابن کثیرمیں ہے،''یعنی بندے پر اس کے تمام اچھے برے، نئے پرانے اعمال پیش کئے جائیں گے ۔''(ج۸، ص ۳۱۳)
(3) سورۃالنازعات میں ہے ۔۔۔۔۔۔'' یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَاسَعٰی۔
ترجمہ کنزالایمان:اس دن آدمی یاد کریگا جو کوشش کی تھی ۔''
(پ۳۰۔النازعات ۳۵)
(4) سورۃالتکویر میں ہے،۔۔۔۔۔۔
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْ ﴿ؕ۱۴﴾
ترجمہ کنزالایمان:ہرجان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی ۔''(پ۳۰۔التکویر۱۴)
(5) سورۃ الانفطار میں ہے،۔۔۔۔۔۔'' عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ۔
ترجمہ کنزالایمان: ہرجان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے ۔''
(پ۳۰۔الانفطار:۵)