Brailvi Books

فکرِ مدینہ
21 - 166
(4) دن اور رات :
        آج ہم کوئی بھی کام کرتے وقت دن کے اجالے یا رات کی تاریکی کی مطلقاً پرواہ نہیں کرتے ۔ لیکن یاد رکھئے ! کہ بروز ِ قیامت یہ بھی ہماری نیکی یا بدی پر گواہ ہوں گے ۔ جیسا کہ 

    حضرت سیدنا معقل بن یساررضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی  پاک ،صاحب لولاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،'' کوئی دن ایسا نہیں جو دنیا میں آئے اور وہ یہ نداء نہ کرے ،''اے ابن ِ آدم! میں تیرے ہاں جدید مخلوق ہوں ،آج تُو مجھ میں جو عمل کریگا میں کل قیامت کے دن اس کی گواہی دوں گا ، تُو مجھ میں نیکی کر تاکہ میں تیرے لئے کل قیامت میں نیکی کی گواہی دوں ، میرے چلے جانے کے بعد تو کبھی مجھے نہ دیکھ سکے گا۔'' پھر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ،''اور رات بھی یوں ہی اعلان کرتی ہے۔''
 (حلیۃ الاولیاء، ج۲، ص ۳۴۴ ، رقم الحدیث ۲۵۰۱)
    اور بعد ِ موت 'قبر میں طویل عرصے تک قیام کرنے کے بعد قیامت قائم ہونے پر جب ہم میدان ِ محشر میں پہنچیں گے توہمارے اِن تمام اعمال کو ہمارے سامنے لایا جائے گا ، جس کا بیان قرآن پاک میں مختلف مقامات پر کیا گیا ہے ، چنانچہ ۔۔۔۔۔۔

    (1) سورۃالتکویر میں ہے ۔۔۔۔۔۔
     ''وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ.
ترجمہ کنزالایمان:اور جب نامہ اعمال کھولے جائیں(گے )۔''(پ۳۰، التکویر:۱۰)
Flag Counter