Brailvi Books

فکرِ مدینہ
20 - 166
جو اس پر کیا جاتا رہا ۔'' پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔الحدیث۔۔۔۔۔۔ اوربروزِ قیامت زمین کا بولنا ہمارے مذھب کے نزدیک بعید نہیں ہے کیونکہ ہمارے نزدیک زندگی کے لئے جسم کا ہونا ضروری نہیں ہے ، لہذا !اللہ عزوجل زمین کو اس کی شکل ، خشکی اور تنگی پر باقی رکھتے ہوئے اسے زندگی اور بولنے کی قوت عطا فرمائے گا ، اس سے مقصود یہ ہو گا کہ زمین نافرمانوں سے شکوہ کرسکے اور فرمانبرداروں کا شکریہ ادا کر سکے ،چنانچہ یہ کہے گی کہ''فلاں شخص نے مجھ پر نماز پڑھی، زکوٰۃ دی ، روزے رکھے اور حج کیا جبکہ فلاں نے کفر کیا ، زنا کیا ، چوری کی ،ظلم کیا ۔۔۔۔۔۔ حتیّٰ کہ کافر (یہ سن کر)تمنا کریگا کہ اسے جہنم میں پھینک دیا جائے ۔
(التفسیر الکبیر .الجزء الثانی والثلاثون ، ص ۲۵۵)
    اسی آیت کے تحت تفسیر درِمنثور میں ہے کہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول ِاکرم ،شفیع ِ معظم(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)نے یہ آیت تلاوت فرمائی ،
''یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا۔
ترجمہ کنزالایمان: اس دن وہ (یعنی زمین) اپنی خبریں بتائے گی ۔'' پھر دریافت فرمایا ،'' کیا تم جانتے ہو ، یہ کیا بتائے گی ؟ یہ ہر مرد وعورت کے تمام اعمال کے بارے میں بتائے گی جو وہ اس کی پیٹھ پر کرتے رہے ، یہ کہے گی ،''اِس نے فلاں دن یہ کیا تھا ، اُس نے فلاں دن یہ کیا تھا ۔'' ( بحوالہ ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ ،،ج ۴،رقم ۲۴۳۰)

    اور حضرت ربیعہ جرشی ص سے مروی ہے کہ رسول اللہ(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا،
''تَحَفَّظُوْا مِنَ الْاَرْضِ فَاِنَّھَا اُمُّکُمْ وَاِنَّہُ لَیْسَ مِنْ اَحَدٍ عَامَلَ عَلَیْھَا خَیْرًا اَوْشَرًّا اِلَّا وَھِیَ مُخْبِرَۃٌ بِہِ ۔
زمین سے محتاط رہو کہ یہ تمہاری اصل ہے اور جو کوئی اس پر اچھا یا برا عمل کرے گا 'یہ اس کی خبر دے گی ۔'' (ج ۸، ص۵۴۱)
Flag Counter