| فکرِ مدینہ |
دے گا۔کان کہیں گے،''ہاں! ہم نے (حرام)سنا اور ہم اس پر گواہ ہیں۔'' آنکھیں کہیں گی،''ہاں!ہم نے(حرام)دیکھا۔'' زبان کہے گی،''ہاں! میں نے (حرام) بولاتھا۔''اسی طرح ہاتھ اور پاؤں کہیں گے،''ہاں! ہم (حرام کی طرف)بڑھے تھے۔''شرم گاہ پکارے گی ،''ہاں ! میں نے زنا کیا تھا۔'' اوروہ بندہ یہ سب سن کر حیران رہ جائے گا ۔(ملخَّصًا ،المجلس الخامس والستون ،ص۲۹۴)
(3) زمین :
یہ زمین جس پر ہم اپنی زندگی کے شب وروز بسر کرتے ہیں اوراس سے کسی قسم کی جھجک یا شرم محسوس کئے بغیر ہر جائز وناجائز فعل کر گزرتے ہیں ۔ آج یہ ہماری کسی حرکت پر اپنے ردِعمل کا اظہار نہیں کرتی ،لیکن کل قیامت کے دن یہ بھی ہمارے بارے میں گواہی دے گی کہ ہم اس پر کیا کچھ کرتے رہے ہیں؟ چنانچہ سورہ زلزال میں ارشاد ہوتا ہے،۔۔۔۔۔۔
''یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا ۔
ترجمہ کنزالایمان: اس دن وہ (یعنی زمین) اپنی خبریں بتائے گی ۔(پ۳۰۔الزلزال:۴)
امام فخر الدین رازی علیہ الرحمۃ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں ،''بلاشبہ اللہ عزوجل اس زمین کو زندہ ، عقل مند اور بولنے والی بنا دے گا اور یہ پہچانے گی کہ اس پر بسنے والے کیا کیا عمل کرتے رہے ہیں؟ پھر یہ نیک لوگوں کے حق میں اور گناہ گاروں کے خلاف گواہی دے گی ، رسول اللہانے فرمایا ،''اِنَّ الْاَرْضَ لَتُخْبِرُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِکُلِّ عَمَلٍ عُمِلَ عَلَیْھَا
یعنی بے شک قیامت کے دن زمین ہر اس عمل کے بارے میں بتائے گی