Brailvi Books

فکرِ مدینہ
156 - 166
کے لئے ضروری ہے کہ ہم کچھ دیر کے لئے فکرمدینہ میں مشغول ہوجانے کو ہی اپنی منزل تصور نہ کریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی بھی کوشش کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہمیں بری صحبت سے جان چھڑا کر اچھی صحبت اپنانا ہوگی جس کی برکتوں کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے پیارے آقا ، مکی مدنی سلطان ،رحمت عالمیان انے ارشاد فرمایا،''اچھے اور برے مصاحب کی مثال ، مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ، کستوری اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی ، جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔'' (صحیح المسلم،،ص۱۱۱۶،رقم الحدیث ۲۶۲۸)

    واقعی! ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ،مثلاً اگر آپ کی ملاقات کسی ایسے اسلامی بھائی سے ہو جس کی آنکھوں میں اپنے کسی عزیز کی موت کی وجہ سے نمی تیر رہی ہو ،اس کے چہرے پر غم کے بادل چھائے ہوئے ہوں اور اس کے لہجے سے اداسی جھلک رہی ہو تو اس کی یہ حالت دیکھ کر کچھ دیر کے لئے آپ بھی غمگین ہوجائیں گے اور اگر آپ کو کسی ایسے اسلامی بھائی کے پاس بیٹھنے کا اتفاق ہو ، جس کا چہرہ کسی کامیابی کے وجہ سے خوشی سے دمک رہا ہو، اس کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی ہو اور اس کی باتوں سے مسرت کا اظہار ہورہا ہو تو خواہی نخواہی آپ بھی کچھ دیر کے لئے اس کی خوشی میں شریک ہوجائیں گے ۔

    بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کریگا جو فکر ِ آخرت سے یکسر غافل ہوں اور گناہوں کے ارتکاب میں کسی قسم کی جھجھک محسوس نہ کرتے ہوں تو غالب گمان ہے کہ وہ بھی بہت جلد انہی کی مانندہوجائے گا اور اگر کوئی ایسے لوگوں کی