Brailvi Books

فکرِ مدینہ
155 - 166
لیکن آہ! میں اپنے دل کو ان غلاظتوں سے نہ بچا سکا ،۔۔۔۔۔۔

     آہ صد آہ ! یہ دونوں حکم توڑنے کے بعدمیں کس منہ سے اس قہّار وجبّارعزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہو کرزندگی بھر کے اعمال کا حساب دوں گا؟۔۔۔۔۔۔اورپھرایسے حالات میں کہ خود میرے اپنے اعضاء مثلاً ہاتھ ، پاؤں، آنکھ ، کان ، زبان وغیرہ میرے خلاف گواہی دینے کے لئے بالکل تیار ہیں،۔۔۔۔۔۔یہ زمین بھی میرے اعمال کی گواہی دینے کے لئے بے قرار ہے ،۔۔۔۔۔۔دوسری طرف اپنی مختصر سی زندگی میں نیک اعمال اختیار کرنے والوں کو ملنے والے انعامات دیکھ کر اپنے کرتوتوں پرشدید افسوس ہو رہا ہے کہ وہ خوش نصیب تو سیدھے ہاتھ میں نامہ اعمال لے کر شاداں وفرحاں جنت کی طرف بڑھے چلے جارہے ہیں، لیکن نہ جانے میرا کیا بنے گا؟۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے جہنم میں جانے کا حکم سناکر الٹے ہاتھ میں اعمال نامہ تھما دیا جائے اور سارے عزیز واقارب کی نظروں کے سامنے مجھے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے، ہائے میری ہلاکت!آہ میری رسوائی۔۔۔۔۔۔ (والعیاذ باللہ)

    یہاں پہنچ کراپنی آنکھیں کھول دیجئے اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر یوں کہے کہ ''گھبراؤ نہیں!ابھی مجھ پریہ وقت نہیں آیا ، ابھی میں زندہ ہوں ، یہ زندگی میرے لئے غنیمت ہے ،مجھے اپنی آخر ت سنوارنے کی کوشش میں لگ جانا چاہے، میں اپنے رب تعالیٰ کا اطاعت گزار بندہ بننے کے لئے اس کے احکامات پر ابھی اور اسی وقت عمل شروع کر دوں گا تاکہ کل میدانِ محشر میں مجھے پچھتانا نہ پڑے ۔ان شاء اللہ عزوجل ''
مدنی ماحول کی افادیت:
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فکر ِمدینہ کی برکات سے کامل طور پر فیض یاب ہونے
Flag Counter