بالآخر! میرے جنازے کو کندھوں پر اٹھا لیا گیا ،۔۔۔۔۔۔ میں نے بڑی حسرت سے اپنے نئے گھر کو دیکھا جسے میں نے بڑے شوق سے بنایا تھا لیکن مجھے اس میں زیادہ عرصہ رہنا نصیب نہ ہوسکا،۔۔۔۔۔۔ اپنے کمرے کی طرف دیکھا جہاں کا مکین اب کوئی دوسراہوگا، ۔۔۔۔۔۔ اپنے استعمال کی چیزوں کی طرف دیکھا جنہیں اب کوئی اور استعمال کریگا ۔۔۔۔۔۔ ، اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پودوں کی جانب دیکھا جن کی نگہبانی اب کوئی دوسرا کریگا،۔۔۔۔۔۔لوگ میرا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھائے جنازہ گاہ کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے ،۔۔۔۔۔۔ میں نے انتہائی حسرت کے ساتھ آخری مرتبہ اپنے ماں باپ ، بیوی بچوں ، بھائی بہنوں، دیگر رشتہ داروں، دوستوں اور محلے والوں کی طرف دیکھا،۔۔۔۔۔۔ ان راہوں کو دیکھا جن سے کبھی میرا گزرتھا ۔
جنازہ گاہ پہنچ کر میری نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور مجھے طویل عرصے کے لئے کسی تاریک قبر میں تنہا چھوڑآنے کے لئے میری چارپائی کا رخ قبروں کی جانب کر دیا گیا،۔۔۔۔۔۔ یہ وہی قبرستان ہے کہ جہاں دن کے اجالے میں تنہا آنے کے تصور سے ہی میرا کلیجہ کانپتا تھا،۔۔۔۔۔۔ یہ وہی قبر ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ جنت کا ایک باغ ہے ..یا.. دوزخ کا ایک گڑھا ،۔۔۔۔۔۔یہ تو وہی جگہ ہے کہ جہاں دوخوف ناک شکلوں والے فرشتے سر سے پاؤں تک بال لٹکائے ،آنکھوں سے شعلے نکالتے ہوئے انتہائی سخت لہجے میں مجھ سے تین سوال کریں گے ،''مَنْ رَّبُّکَ(تیرا رب کون ہے؟) '' اور ''مَادِیْنُکَ(تیرا دین کیا ہے؟) '' اس کے بعد کسی کی نورانی صورت دکھا کر پوچھیں گے ،''مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُل(تُو اس ہستی کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا؟) '' ۔
آہ! گناہوں کی نحوست کے سبب کہیں میری قبر دوزخ کا گڑھا نہ بنا دی