Brailvi Books

فکرِ مدینہ
151 - 166
 (16)     اپنے سفرِ آخرت کے حوالے سے'' فکرِ مدینہ''
    کبھی اس طرح تصور کیجئے ،کہ '' میری موت کا وقت آن پہنچا ہے اور مجھ پر غشی طاری ہو چکی ہے،۔۔۔۔۔۔ میرے ارد گرد کھڑے ہونے والے بے بسی کے عالم میں مجھے موت کے منہ میں جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں ،۔۔۔۔۔۔نزع کی سختیاں شروع ہوچکی ہیں،۔۔۔۔۔۔ زبان خاموش ہوچکی ہے ، ۔۔۔۔۔۔ مجھے سخت پیاس محسوس ہو رہی ہے،۔۔۔۔۔۔،اسی اثنا میں کوئی مجھے تلقین کرنے(یعنی میرے سامنے کلمہ پاک پڑھنے) لگا ،۔۔۔۔۔۔اس کے بعد کسی نے میرے سرہانے سورہ یٰسین شریف کی تلاوت شروع کر دی ،۔۔۔۔۔۔ ،سامنے کے مناظر دھندلے ہونے لگے،۔۔۔۔۔۔ گلے سے خرخراہٹ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں ،بالآخر میری روح نے جسم کا ساتھ چھوڑدیا۔

    میری موت واقع ہوتے ہی عزیز و اقارب پر گریہ طاری ہوگیا ۔ بیوی بچے ، بہن بھائی ، ماں باپ وغیرہ سبھی کی آنکھوں سے شدتِ غم سے آنسو بہہ رہے ہیں ،۔۔۔۔۔۔ کچھ لوگوں نے آگے بڑھ کررونے والوں کی غم خواری کی،۔۔۔۔۔۔ان میں سے کسی نے آگے بڑھ کر میری بے نور آنکھیں بند کر دیں اور پاؤں کے دونوں انگوٹھے اوردونوں جبڑوں کو کپڑے کی پٹی سے باندھ دیا گیا،۔۔۔۔۔۔پھر میری تدفین کے انتظامات ہونے لگے ،۔۔۔۔۔۔رشتہ داروں اور دوستوں کو میرے مرنے کی خبربھی دے دی گئی ،۔۔۔۔۔۔ غسل کا انتظام ہونے پر مجھے تختہ غسل پر لٹاکر غسل دیا گیا اورسفید کفن پہناکر آخری دیدار کے لئے گھر والوں کے سامنے لٹا دیا گیا،۔۔۔۔۔۔ میرے چاہنے والوں نے آخری مرتبہ مجھے دیکھا کہ یہ چہرہ اب دنیا میں دوبارہ ہمیں دکھائی نہ دے گا،۔۔۔۔۔۔پورے گھر کی فضا پر عجیب سوگواری چھائی ہوئی ہے اور درودیوار سے حسرت ٹپک رہی ہے ۔
Flag Counter