| فکرِ مدینہ |
جائے۔ اے کاش ! میں نے زندگی میں نیکیاں کمائی ہوتیں ،افسوس! میں نے گناہوں سے پرہیز کیاہو تا ، آہ ! اب میرا کیا بنے گا ۔''
اس کے بعد آنکھیں کھول دیں اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکرکہیں کہ ''ابھی تومیں زندہ ہوں ،ابھی میری سانسیں چل رہی ہیں ،۔۔۔۔۔۔میں ان حسرت آمیز لمحات کے آنے سے پہلے پہلے اپنی قبر کو جنت کا باغ بنانے کی کوشش میں لگ جاؤں گا ،۔۔۔۔۔۔ خوب نیکیاں کروں گا ، گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کروں گا تاکہ کل مجھے پچھتانا نہ پڑے ۔ ان شاء اللہ عزوجل ''(17) میدانِ محشر میں اپنی حاضری کے حوالے سے'' فکرِ مدینہ''
کبھی اس طرح تصور کریں کہ ''میں نے قبر میں ایک طویل عرصہ رہنے کے بعد بے شمار مُردوں کی طرح وہاں سے نکل کر بارگاہ الٰہی عزوجل میں حاضری کے لئے میدان محشر کی طرف بڑھنا شروع کردیا ہے،۔۔۔۔۔۔سورج ہمارے بہت قریب ہے اور آگ برسا رہا ہے، لیکن اس کی تپش سے بچنے کے لئے کوئی سایہ بھی میسر نہیں،۔۔۔۔۔۔ ہر ایک کو پسینوں پر پسینے آرہے ہیں جس کی بدبو سے دماغ پھٹا جارہا ہے،۔۔۔۔۔۔ہر کوئی پیاس سے نڈھال ہے۔۔۔۔۔۔، ہجوم کی کثرت کی وجہ سے دھکے لگ رہے ہیں،۔۔۔۔۔۔جبکہ دل زندگی بھر کی جانے والی اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کا سوچ کر ڈوبا جارہا ہے،۔۔۔۔۔۔ان کے نتیجے میں ملنے والی جہنم کی ہولناک سزاؤں کے تصور سے کلیجہ کانپ رہا ہے،۔۔۔۔۔۔میدانِ محشر تو وہ امتحان گاہ ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ انسان اس وقت تک قدم نہ ہٹا سکے گا جب تک ان پانچ سوالات کے جوابات نہ دے لے(۱)تم نے زندگی کیسے بسر کی؟(۲)جوانی کس طرح گزاری ؟ (۳)مال کہاں سے کمایا ؟اور۔۔۔۔۔۔(۴)کہاں