''فریشFresh))'' ہونے کے لئے گلی میں آوارہ دوستوں کی محفل میں جا بیٹھا،۔۔۔۔۔۔فحش کلامی ، گالی گلوچ ، تاش ،رات گئے تک گلی ہی میں کرکٹ وغیرہ کھیلنااور اودھم مچاکر محلہ داروں کی ناک میں دم کرنا ہم تمام دوستوں کا'' محبوب مشغلہ'' تھا،جس کی بناء پر سارے محلے والے ہمارے'' معترف''تھے ،۔۔۔۔۔۔جب رات گئے گھر لوٹاتوسب گھر والے سو چکے تھے ،لہذا میں نے ''ذہنی سکون'' کے لئے کمپیوٹر پر انٹرنیٹ آن کیا اور ایک ویب سائٹ کھولی جس میں سیکس اپیل(Sex Apeal) مناظر کی کثرت تھی۔۔۔۔۔۔، یہاں تک کہ نیند کے مارے میری آنکھیں بوجھل ہونے لگیں،میں نے کمپیوٹر بند کیا اور سونے کے لئے بستر پر چلا گیا۔۔۔۔۔۔، یوں میں نے کل کا سارا وقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں گزار دیا ۔۔۔۔۔۔۔
اس مقام پر پہنچ کر آنکھیں کھول کر اپنے آپ سے یوں مخاطب ہوں کہ ،''اے نادان ! تو کب تک اسی منحوس طرزِ زندگی کو اپنائے رکھے گا؟۔۔۔۔۔۔ کیا روزانہ یونہی تیرے نامہ اعمال میں گناہوں کی تعداد بڑھتی رہے گی؟۔۔۔۔۔۔ کیا تجھے نیکیوں کی بالکل حاجت نہیں؟۔۔۔۔۔۔کیا تجھ میں دوزخ کے عذابات برداشت کرنے کی ہمت وطاقت ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔ کیا تو جنت سے محرومی کا دکھ برداشت کر پائے گا؟۔۔۔۔۔۔ یاد رکھ اگراب بھی توخواب ِ غفلت سے بیدار نہ ہوا تو موت کے جھٹکے بالآخرتجھے جھنجھوڑ کر اٹھا دیں گے،۔۔۔۔۔۔لیکن افسوس ! اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی ، پچھتانے کے سواء کچھ حاصل نہ ہو گا،۔۔۔۔۔۔اس زندگی کو غنیمت سمجھتے ہوئے خدائے احکم الحاکمین عزوجل کی اطاعت اور اس کے حبیب، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سنتوں کی اتباع میں مشغول ہوجا ۔اللہ تعالیٰ تیرا حامی وناصرہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ''