کبھی تواس طرح اپنے روز مرہ کے معمولات کا محاسبہ کیجئے کہ ''کل صبح سے لے کر اب تک میں کتنا وقت گزار چکا ہوں؟۔۔۔۔۔۔ جس انداز سے میں نے یہ وقت گزارا ، کیا یہ اندازایک مسلمان کو زیب دیتا ہے ؟۔۔۔۔۔۔ افسوس! اپنی عادت کے مطابق میں نے جگائے جانے کے باوجود سستی کرتے ہوئے فجر کی جماعت چھوڑ دی اور گھر میں پڑھ لی،۔۔۔۔۔۔ پھر اپنی دکان پر جانے کے لئے تیار ہوتے ہوئے داڑھی شریف جو کہ عظیم سنت ہے ،کو مونڈھ کر (معاذ اللہ ) گندی نالی تک میں بہا دینے سے دریغ نہیں کیا۔۔۔۔۔۔ ،پھر کپڑے وغیرہ تبدیل کرنے کے دوران اپنے پسندیدہ گانے سننے کا بھی سلسلہ رہا ۔۔۔۔۔۔، بھابھی سے چھیڑ چھاڑ بھی جاری رہی۔۔۔۔۔۔، ناشتہ پسند نہ آنے پر والدہ سے بدتمیزی کر کے ان کا دل بھی تو دُکھایاتھا۔۔۔۔۔۔، اباجان نے ایسا کرنے سے منع کیا تو انہیں بھی آڑے ہاتھوں لیا تھا،۔۔۔۔۔۔، خلاف ِ سنت لباس پہن کرجب گھر سے روانہ ہوا تو چلتے چلتے اپنے پڑوسیوں کے دروازے سے دانستہ طور پراندر جھانکا بھی تھا۔۔۔۔۔۔، بس میں ایک مسافر سے خوامخواہ الجھ کر دو چار گالیاں بھی توبکی تھیں ۔۔۔۔۔۔، اور بس کی کھڑکی سے فٹ پاتھ پر چلنے والی بے پردہ خواتین کوٹکٹکی باندھ کر دیکھا بھی توتھا۔۔۔۔۔۔ ، پھر دکان پر آنے والے گاہگوں میں سے کسی کے ساتھ جھوٹ بولا، کسی کے سامنے جھوٹی قسم تک اٹھائی ، کسی کو عیب دار مال بغیر عیب بتائے بھی تو بیچ ڈالا تھا ،۔۔۔۔۔۔سارا دن دکان پر اتنا ''مصروف''رہا کہ ظہروعصر ومغرب کی نماز کی ادائیگی کا ''وقت ''ہی نہ ملا،۔۔۔۔۔۔پھر گھر لوٹنے کے لئے دوسروں کو دھکے دیتے ہوئے بس میں سوار ہوگیا تھا،۔۔۔۔۔۔ گھر پہنچ کر میں ''شدید تھکاوٹ'' کی بناء پر عشاء کی نماز نہ پڑھ سکا،۔۔۔۔۔۔اوررات کا کھانا کھانے کے بعد