گی ،۔۔۔۔۔۔جب تجھے پانی وغیرہ پینے کی خواہش ہوگی تو پیالا خود بخود تیرے ہاتھ میں آجائے گا جس میں تیری خواہش کے مطابق مشروب ہوگا،۔۔۔۔۔۔وہاں تُو جو کھانا کھائے گا اس کے ہر لقمے میں ستّر الگ الگ قسم کے مزے ہوں گے ،۔۔۔۔۔۔ سب سے بڑھ کر نعمت یہ ملے گی کہ تجھے اپنے رب تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا ۔
لیکن اس کے برعکس اگر تجھے(معاذ اللہ عزوجل) اپنے گناہوں کی سزا بھُگتنے کے لئے جہنم میں پھینک دیا گیا تو یاد رکھ ! یہ وہ جگہ ہے جس کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گُنا تیز ہے ، ۔۔۔۔۔۔ اگر جہنم کو سوئی کے ناکے کے برابر کھول دیا جائے تو تمام اہل ِ زمین اس کی گرمی سے مر جائیں ،۔۔۔۔۔۔ اگر جہنمیوں کو باندھنے والی زنجیر کی ایک کَڑی دنیا کے کسی پہاڑ پر رکھ دی جائے تو وہ زمین میں دھنس جائے ،۔۔۔۔۔۔ جہاں اونٹ کے برابر سانپ ہیں، ان میں سے اگر کوئی سانپ کسی کو کاٹ لے تو چالیس سال تک اس کا درد محسوس ہوتا رہے گا ، ۔۔۔۔۔۔ اس میں خچر کے برابر بچھو ہیں جوایک مرتبہ کاٹ لیں تو چالیس برس تک تکلیف محسوس ہوتی رہے ،۔۔۔۔۔۔اس کا ہلکاترین عذاب یہ ہے کہ انسان کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی ،جس سے اس کا دماغ ہانڈی کی طرح کھولنے لگے گا ۔(الامان والحفیظ )
اے نفس ! اب فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے کہ تُو اپنے مالک عزوجل اور اس کے پیارے حبیب ( )کی اطاعت میں زندگی گزار کر جنت میں جانا چاہتا ہے ..یا .. (معاذ اللہ )گناہوں بھری زندگی بسر کر کے جہنم کی گہرائیوں میں گرنا چاہتا ہے ،۔۔۔۔۔۔ تُو یقینا جنت میں جانے کا خواہش مند ہوگا ،لیکن اس کے لئے تجھے اپنی خواہشات کی قربانی دیتے ہوئے نیکیوں کو اپنانا ہوگا اور گناہوں سے جان چھڑانی ہوگی ،۔۔۔۔۔۔ چل جلدی کر ! اور آخرت میں کامیابی کے حصول کے لئے کمر بستہ ہوجا۔''