کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے جنت کی کیسی کیسی اعلیٰ نعمتیں تخلیق فرمائیں کہ ان جیسی کوئی شے نہ کبھی تو نے دیکھی ، نہ سنی ، اور نہ ہی تیرے دل میں اس کا خیال آیا ،۔۔۔۔۔۔ اگر رحمتِ باری عزوجل اور شفاعتِ مصطفی (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کے طفیل تو جنت میں پہنچ گیا تو تُو ہمیشہ تندرست رہے گا کبھی بیمار نہ پڑے گا ،۔۔۔۔۔۔ تیری عمر تیس برس کے لگ بھگ ہوگی ،تُوہمیشہ جوان رہے گا کبھی بوڑھا نہ ہوگا ،۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ خوش رہے گا کبھی غمگین نہ ہوگا ،۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ زندہ رہے گا کبھی نہیں مرے گا ،۔۔۔۔۔۔ تُوکھانے پینے کے باوجود نہ تو تھوکے گا نہ پیشاب وغیرہ کریگا بلکہ ایک خوشبودار پسینے اور ڈکار کے ذریعے تیرا سارا کھانا ہضم ہوجائے گا ،۔۔۔۔۔۔اگر تُوکسی جنتی پرندے کو اڑتا دیکھ کر دل میں تمنا کریگا کہ کاش! یہ پرندہ مجھے بھُنا ہوا مل جائے تو وہ پرندہ تیرے سامنے آن گرے گا اور بغیر دھوئیں کے بھُنا ہوا ہو گا ،تُو اس میں سے جتنا چاہے گا کھائے گا ،تیرے فارغ ہونے کے بعد وہ پرندہ اپنی اصلی شکل میں واپس آئے گا اور اڑتا ہوا روانہ ہو جائے گا ،۔۔۔۔۔۔ تُو جن محلات میں رہے گا وہ ایسے صاف شفاف ہیں کہ اندر کا حصہ باہر سے دکھائی دیتا ہے،۔۔۔۔۔۔وہاں تجھے سونے کی حاجت بھی محسوس نہیں ہوگی ،۔۔۔۔۔۔ تجھے کم ازکم اسّی ہزار خادم ملیں گے اور اسّی جنتی حُوریں ملیں گی ،۔۔۔۔۔۔جن میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ اُس کے چہرے کی چمک سے زمین وآسمان روشن ہوجائیں ،اُس کا تھوک اگر سات سمندروں میں ڈال دیا جائے تو اُن کا پانی شہدسے زیادہ میٹھا ہوجائے ،۔۔۔۔۔۔ اُس کی مسکراہٹ سے جنت میں نور پھیل جائے ، ۔۔۔۔۔۔اُس کا دوپٹا دنیاو مافیہا سے بہتر ہے ،۔۔۔۔۔۔ اگر وہ اپنی ہتھیلی زمین وآسمان کے درمیان نکالے تو اس کے حسن کی وجہ سے لوگ فتنے میں مبتلاء ہوجائیں،۔۔۔۔۔۔ پھر جنتی دریاؤں سے نکلنے والی پانی، دودھ، شہد اور پاکیزہ شراب کی نہریں تیرے محل کے اندر سے ہوکر گزریں